Wednesday, February 4, 2026

*ایک انتہائی سبق آموز کہانی...!* 💔



*راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تو تکرار ہو گئی.....*


تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گیا ، بوڑھے آدمی کا غصہ اب بھی اپنی جگہ قائم تھا ۔ وہ کسی طرح اس سے اس لڑائی کا بدلہ لینا چاہتا تھا ۔ جسمانی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے وہ نوجوان سے مار پیٹ تو نہیں کر سکتا تھا لیکن اس نے اسکا ایک اور حل نکالا ۔۔۔


بوڑھے نے نوجوان کے بارے میں "افواہ" پھیلانا شروع کر دی کہ وہ "چور" ہے ۔ وہ ہر رہگزر سے یہی بات کرتا ۔ ۔ ۔ کئی لوگ اسکی بات کو ان سنا کرتے لیکن چند لوگ یقین بھی کر لیتے تھے ۔ کچھ دن گزرے تو پاس کے علاقے میں کسی کی چوری ہو گئی ۔ لوگوں کے دلوں میں بوڑھے نے پہلے ہی نوجوان کے خلاف شک ڈال دیا تھا ۔ چوری کے الزام میں نوجوان کو پکڑ لیا گیا ۔ ۔ لیکن چند ہی دنوں میں اصل چور کا پتا لگنے پر اسے کو رہائی مل گئی ۔ ۔


رہا ہوتے ہی اس نے علاقے کے سردار سے بوڑھے آدمی کی شکایت کی جس کی بنا پہ بوڑھے کو پنچائیت میں بلایا گیا ۔ ۔ ۔ بوڑھے نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے صفائی پیش کی ۔۔ سردار نے بوڑھے کو حکم دیا کہ اس نے جو جو افواہ نوجوان کے بارے میں پھیلائی ہے ۔ ۔ وہ سب ایک کاغذ پہ لکھے اور پھر اس کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے چوراہے میں جا کے ہوا میں اڑا دے ۔ ۔ اگلے دن بوڑھے کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا ۔۔


بوڑھا سر دار کا حکم بجا لیا ۔ ۔ کاغذ پہ سب کچھ لکھا اور اس کے ٹکڑے ہوا میں اڑا دیے ۔ اگلے دن جب پنچائیت لگی ۔۔ سبھی لوگ جمع ہوئے ۔ بوڑھے نے رحم کی استدعا کی ۔ ۔ سردار نے کہا کہ اگر وہ سزا سے بچنا چاہتا ہے تو کاغذ کے وہ سارے ٹکڑے جمع کر کے لائے جو کل اس نے ہوا میں اڑا دیے تھے ۔ بوڑھا پریشان ہو کے بولا کہ یہ تو نا ممکن سی بات ہے


سردار نے جواب دیا کہ تم نے نوجوان کے بارے میں اسی طرح ہوا میں "افواہ" پھیلائی ۔ ۔ تمہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے کہ تمہاری یہ "افواہ " کہاں کہاں تک پہنچی ہوگی ۔ ۔ ۔ اگر تم کاغذ کے ٹکڑے واپس نہیں لا سکتے تو وہ "افواہ " کیسے واپس لاؤ گے جس کی وجہ سے نوجوان بدنام ہوا ہے ۔ بوڑھے نے ندامت سے سر جھکا لیا۔۔۔


یہ انگریزی زبان کا ایک چھوٹا سا قصہ ہے ۔ جس میں سمجھداروں کے لیے ایک بہت بڑا سبق موجود ہے ۔


کئی بار ہم بنا تصدیق کے لوگوں کے بارے میں "افواہیں " پھیلانا شروع کر دیتے ہیں ۔ ہماری بنا سوچے سمجھے کی گئی چھوٹی سے بات کسی اور کی زندگی پر کتنا اثر انداز ہو سکتی ہے اسکا شائد ہمیں اندازہ بھی نہیں ہے ۔

اس لیے منہ کھولنے سے پہلے تصدیق بہت ضروری ہے


منقول

دوسروں کی مدد کرنا اپنا ایک فریضہ سمجھیں۔۔۔

 *دوسروں کی مدد کرو، چاہے وہ اس کا بدلہ دینے کے قابل نہ ہوں۔*


*حقیقی انسانیت یہی ہے کہ ہم نیکی اس نیت سے کریں کہ سامنے والا ہمیں کچھ لوٹائے نہیں، بلکہ اس لیے کہ یہ درست کام ہے۔ جب آپ کسی کمزور، مجبور یا خاموش دل کی مدد کرتے ہیں، تو دراصل آپ اپنے کردار کو بلند کرتے ہیں۔ نیکی کا بدلہ ہمیشہ لوگوں سے نہیں ملتا، مگر زندگی، سکونِ دل اور اللہ کی رضا کی صورت میں ضرور ملتا ہے۔✨❤️*

اپنا جائزہ تو لیجئے

 *اپناجائزہ تولیجیے*

〰️〰️🍃🔺🍃〰️〰️


*مچھلی پانی میں ہی پیدا ہوتی ہے اسے کیا معلوم کہ یوں پانی میں رہنا ڈوب کر مرنے کا باعث ہے،*


جنات آگ کے بنے ہیں انھیں کیا معلوم کہ آگ جسم کو جلا دیتی ہے،. 


کیڑے مکوڑے زیر زمین رہتے ہیں وہ بھی بے خبر ہیں کہ زیر زمین مردے دفن کئے جاتے ہیں،


▪️ *اسی طرح جب ہم برائی کے ماحول میں پلتے بڑھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ اچھائی کی سفارشات کیا ہوتی ہیں ۔* 


 ▪️آج کی پرورش ہی ٹیلیویژن اور بے لگام موبائل فون کے سامنے ہو رہی ہے۔۔

▪️ *آپ نے یقیناً محسوس کیا ہوگا کہ جب ابتدا میں ہم نے ڈرامے دیکھنا شروع کئے تھے تب ہمیں بیوی اور بہنوں بیٹیوں کی موجودگی کی وجہ سے ڈرامے کے کئی مراحل پر ناگواری محسوس ہوتی تھی...*


▪️ *لیکن آج کسی صابن کے اشتہار میں جب آنکھوں کے عین سامنے آیک نیم برہنہ خاتون کو نہاتے ہوئے جسم پر صابن لگاتے دکھایا جاتا ہے تو جنبش بھی پیدا نہیں ہوتی کیونکہ گندے جوہڑ کے حشرات کی طرح غلیظ پانی میں رہ رہ ہم پاکیزگی کے اطوار بھول چکے ہیں ۔*


▪️ *آج فلمی انداز کے نیم برہنہ لباس جب ہم اپنی معصوم بچیوں کو پہناتے ہیں* تو درحقیقت ہم *اس ناری ماحول کی طرف انھیں لے کے جا رہے ہوتے ہیں جو جسم کو جلا دیتا ہے،*

یونیورسٹی میں بیٹوں کا لڑکیوں کے ساتھ مل بیٹھنا اب والدین کو بھی برا نہیں لگتا کیونکہ ہم مینڈک کی طرح گرم پانی میں خود کو ڈھالتے جا رہے ہیں،. 


🍃 *تہذیب جو کسی مذہب اور خطے کا لباس ہوتی ہے اسے ہم تاریخ کی کتابوں میں بند کرتے جا رہے ہیں۔* 


*ٹیلیویژن کی سکرین سے لے کر شادی بیاہ اور منگنی کی تقاریب تک ہم ایک جس ماحول کی طرف بڑھ رہے ہیں*. 


🍁 *یہ ماحول کل تک ہمارے آباؤ اجداد کے سامنے حد درجہ قابل نفرت تھا،*

،

 *اپنے آپ کو دیکھو اور اپنی آنے والی نسلوں کو بچاو اس آگ سے جس نے سب کچھ جلا کر راکھ کر دینا ہے ۔*


☘️ *شرم و حیا جو مسلمان کے لیے کئی برائیوں کے خلاف ایک ڈھال کی حیثیت رکھتی ہے* کہیں ہم یہ ڈھال پھینک تو نہیں رہے؟. 


🔺 *کہیں ہم وہ بیج تو نہیں بو رہے جس کی جڑیں کل کو ہماری عمارت ہی اکھاڑ پھینکیں گی.... ؟؟؟؟؟*


*اک چھوٹی سی کوشش اپنی آنکھیں کھولنے کی۔*

Sunday, March 28, 2021

A Very Important Lesson For Our Community

ستر اور اسی کی دہائی میں اس کی شہرت اور دولت کا اتنا چرچا تھا کہ شہزادیاں اور شہزادے ان کے ساتھ ایک کپ کافی پینا اپنے لئے اعزاز سمجھتے تھے.

وہ کینیا میں موجود اپنے وسیع و عریض فارم ہاوس میں چھٹیاں گزار رہے تھے ان کی کم سن بیٹی نے آئیسکریم اور چاکلیٹ کی خواہش کی انہوں نے اپنا ایک جہاز ال 747 بمع عملہ پیرس بھیجا جہاں سے آئیسکریم خریدنے کے بعد جنیوا سے چاکلیٹ لیکر اسی دن جہاز واپس کینیا پہنچا.

اس کے ایک دن کا خرچہ 1 ملین ڈالرز تھا.

لندن،پیرس،نیویارک،سڈنی سمیت دنیا کے 12 مہنگے ترین شہروں میں اس کے لگژری محلات تھے.

انہیں عربی نسل گھوڑوں کا شوق تھا دنیا کے کئی ممالک میں ان کے خاص اصطبل تھے.

اس کی دی ہوئی طلاق آج تک دنیا کی مہنگی ترین طلاق سمجھی جاتی ہے جب اس نے 875 ملین ڈالر اپنی امریکی بیوی کے منہ پر مارے اور اسے طلاق دی.

اس کی ملکیت میں جو یاٹ تھی وہ اپنے دور کی سب سے بڑی یاٹ تھی،جو اس وقت بادشاہوں کو بھی نصیب نہ تھی 
اس یاٹ میں 4 ہیلی کاپٹر ہر وقت تیار رہتے جب کہ 610 افراد پر مشتمل خدام اور عملہ تھا،وہ یاٹ بعد میں ان سے برونائی کے سلطان نے خریدی ان سے ہوتے ہوئے ڈونلڈ ٹرامپ تک پہنچی،ٹرامپ نے 29 ملین ڈالر میں خریدی.

ان کی اس یاٹ پر جیمز بانڈ سیریز کی فلموں سمیت کئی مشہور ہالی ووڈ فلمیں شوٹ کی گئیں.

اپنی پچاسویں سالگرہ پر اس نے سپین کے ساحل پر دنیا کی مہنگی ترین پارٹی دی جس میں دنیا کی 400 معروف شخصیات نے 5 دن تک خوب مستی کی.

امریکی صدر رچرڈ نکسن کی بیٹی کی ایک مسکراہٹ پر 60 ہزار پاونڈ مالیت کا طلائی ہار قربان کر دیا.

 اسحلے کا بہت بڑا سوداگر تھا ملکوں کے درمیان وہ اسلحے کی ڈیل اور معاہدے کراتا تھا،سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان انہوں نے 20 ارب ڈالر کے معاہدے کرائے.

شراب اور شباب ان کی کمزوری تھی 4 جائز اور 8 ناجائز بیگمات ان کے عقد میں تھیں.

یتیموں پر دست شفقت رکھنا،بیواوں کا خیال،مسکینوں کی مدد،سیلاب اور زلزلوں میں انسانی ہمدردی کے تحت فلاحی کام ان سب سے اسے سخت الرجی تھی ان کا یہ جملہ مشہور تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنی اولاد کی کفالت کی ذمہ داری مجھے نہیں سونپ دی ہے.

اسی کی دہائی میں وہ 40 ارب ڈالرز کے اثاثوں کا مالک تھا.

پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالی نے اس کی رسی کھینچ لی،اب تنزل و انحطاط کی طرف اس کا سفر شروع ہوا، اربوں ڈالرز کی مالیت کے ان کے ہیرے سمندر میں ڈوب گئے،کاروبار میں خسارے پہ خسارہ شروع ہوا،قرضے پہ قرضا چڑھا سب اثاثے فروخت کر ڈالے،ان کے دوست احباب،ان کے چاہنے والوں نے ان سے نظریں پھیر لی،یہ ایک لمبی مدت گمنامی کے پاتال میں چلا گیا،کسی کو خبر نہ تھی کہ کہاں ہے.

پھر ایک دن یہ لندن میں کسی سعودی تاجر کو ملا ،ان کی حالت غیر ہوچکی تھی،اس تاجر سے کہا وطن واپس جانا چاہتا ہوں لیکن کرایہ نہیں،اس سعودی تاجر نے اکانومی کلاس کا ٹکٹ خرید کر اسے دیا اور یہ جملہ کہا.

اے عدنان ! اللہ تعالی نے فقیروں اور غریبوں پر  مال خرچ کرنے اور صدقہ کا حکم دیا ہے یہ ٹکٹ بھی صدقہ ہے. 

اپنے دور کا یہ کھرپ پتی شخص صدقے کی ٹکٹ پر عام مسافروں کے ساتھ جہاز میں بیٹھ کر جدہ پہنچ گیا.

اس عرب پتی تاجر کا نام عدنان خاشقجی تھا یہ عرب نژاد ترکی تھا،اس کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی ان کا والد شاہی طبیب تھا،یہ شخص ترکی میں قتل ہوئے صحافی جمال خاشقجی کا چچا تھا،2017 میں ان کا انتقال ہوا.

میں نے جب اس شخص کی زندگی کا مطالعہ کیا یقین کیجئے میں ہل کر رہ گیا اللہ تعالی کے انصاف پر میرا ایمان مزید پختہ ہوگیا،یاد رکھیں آپ جتنے بھی طاقت ور ہیں آپ جتنے بھی ثروت مند ہیں اللہ تعالی کے آگے بہت کمزور ہیں،اپنی دولت اور طاقت کو کبھی بغاوت کے لئے استعمال نہ کرنا اللہ تعالی کی پکڑ بڑی سخت ہے. 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال نعمت سے ہمیشہ اللہ تعالی کی پناہ مانگتے تھے.

اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك.
😔😔😔😔

Thursday, January 28, 2021

Un Educated Judge....

(کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں)
آپ نے یہ منقولہ تو بچپن سے سنا ہوگا مگر کے پیچھے کی داستان کا نہیں پتا ہوگا ۔
کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے، پٹیالہ کے سب سے بااثر بڑے جاگیردار اور گاؤں کے پنچایتی سرپنچ بھی تھے،
ایک دن معملات سے تنگ آکر بھانجے کے پاس پہنچے اور کہا کہ شہر کے سیشن جج کی کرسی خالی ہے مجھے جج لگوا دے،
(ان دنوں کسی بھی سیشن جج کے آڈر انگریز وائسراۓ کرتے تھے)
بھانجے سے چھٹی لکھوا کر کھڑک سنگھ وائسرائے کے پاس جاپہنچے، وائسرائے نے خط پڑھا
وائسرائے۔ نام؟
کھڑک سنگھ'
وائسرائے۔ تعلیم؟
کھڑک سنگھ۔ "تسی مینو جج لانا ہے یا سکول ماسٹر؟"
وائسرائے ہنستے ہوئے 'سردار جی میرا مطلب قانون کی کوئی تعلیم بھی حاصل کی ہے یا نہیں اچھے برے کی پہچان کیسے کرو گے'؟
کھڑک سنگھ نے موچھوں کو تاؤ دیا اور بولے " بس اتنی سی بات بھلا اتنے سے کام کے لیے گدھوں کی طرح کتابوں کا بوجھ کیوں اٹھاؤ میں سالوں سے پنچائت کے فیصلے کرتا آرہا ہوں ایک نظر میں بھلے چنگے کی تمیز کرلیتا ہوں"
وائسرائے نے سوچا کہ بھلا کون مہاراجہ سے الجھے جن نے سفارش کی ہے وہ جانے اور اس کا ماموں، عرضی پر دستخط کردیے اور  کھڑک سنگھ جسٹس کا فرمان جاری کردیا۔
اب کھڑک سنگھ پٹیالہ لوٹے اور اگلے دن بطور جسٹس کمرہ عدالت میں پہنچے اتفاق سے پہلا کیس قتل کا تھا،،
کٹہرے میں ایک طرف چار ملزم اور دوسری جانب ایک روتی خاتون تھی ۔
جسٹس صاحب نے کرسی پر براجمان ہونے سے پہلے فریقین کو غور سے دیکھ لیا اور معاملہ سمجھ گئے ۔
۔
ایک پولیس افسر کچھ کاغذ لے کر آیا اور بولا 'مائی لاڈ یہ عورت کرانتی کور ہے اس کا الزام ہے کہ ان چار لوگوں نے اس کے شوہر کو قتل کیا ہے'
جسٹس کھڑک سنگھ نے عورت سے تفصیل پوچھی۔
عورت بولی- "سرکار دائیں جانب والے کے ہاتھ میں برچھا تھا اور برابر والے کے ہاتھ میں رانتی اور باقی دونوں کے ہاتھوں میں سوٹے تھے، یہ چاروں کماد کے اولے سے نکلے اور کھسم کو مار مار کر جان سے مار دیا"
جسٹس کھڑک سنگھ نے چاروں کو غصہ سے دیکھا اور پوچھا 'کیوں بدمعاشو تم نے بندہ مار دیا'؟
دائیں طرف کھڑے بندے نے کہا 'نہ جی سرکار میرے ہاتھ میں تو کئی تھی دوسرے نے کہا میرے ہاتھ میں بھی درانتی نہیں تھی ہم تو صرف بات کرنے گئے تھے اور ہمارا مقصد صرف سمجھایا تھا"
کھڑک سنگھ نے غصہ سے کہا جو بھی ہو بندہ تو مرگیا نا؟
پھر قلم پکڑ کر کچھ لکھنے لگے تو اچانک ایک کالا کوٹ پہنے شخص کھڑا ہوا اور بولا مائی لاڈ رکھئے "یہ کیس بڑا پیچیدہ ہے یہ ایک زمین کا پھڈا تھا اور جس زمین پر ہوا وہ زمین بھی ملزمان کی ہے بھلا مقتول وہاں کیوں گیا؟
جسٹس کھڑک سنگھ نے پولیس افسر سے پوچھا یہ کالے کوٹ والا کون ہے ؟
'جناب یہ ان چاروں کا وکیل ہے' پولیس والے نے جواب دیا۔
تو انہیں کا بندہ ہوا نا جو ان کی طرف سے بات کررہا ہے، پھر کھڑک سنگھ نے وکیل صفائی کو بھی ان چاروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا کہا پھر ایک سطری فیصلہ لکھ کر دستخط کردیے ۔
فیصلے میں لکھا تھا ( ان چاروں قاتلوں اور ان کے وکیل کو کل صبح صادق پھانسی پر لٹکا دیا جاۓ)
پٹیالہ میں ہلچل مچ گئی ہر لوگ کھڑک سنگھ کے نام سے تھر تھر کامپنے لگے کہ کھڑک سنگھ مجرموں کے ساتھ ان کے وکیلوں کو بھی پھانسی دیتا ہے، اچانک جرائم کی شرح صفر ہوگئی، کوئی وکیل کسی مجرم کا کیس نا پکڑتا، جب تک کھڑک سنگھ پٹیالہ جج رہیں ریاست میں خوب امن رہا آس پڑوس کی ریاست سے لوگ اپنے کیس کھڑک سنگھ کی عدالت میں لاتے اور فوری انصاف پاتے۔
اس واقعہ میں دور حاضر کے پڑھے لکھے ججوں کے لیے ایک گہرا سبق ہے کہ اگر انصاف فوری اور مجرموں کے ساتھ ان کے وکیلوں کو بھی سزا ملنے لگے تو ملک میں جرائم کی شرح صفر ہوجاۓ گی

Change The Lens Change The World

.......تلوار اور عالم اسلام......

اسلامی سطوت وہیبت کی جھلک
پروفیسر علی ارباش آیا صوفیہ کےممبر پر تقریبا نوے سال بعد ہاتھ میں تلوار لیئے بیٹھے ہیں 
فقہ حنفی میں خطیب کو ہاتھ تلوار لیکر خطبہ پڑھنے کے متعلق اختلاف ہے 
کچھ علماء سنت کہتے ہیں 
کچھ غیر سنت کہتے ہیں 
جبکہ حقیقت میں ہاتھ میں تلوار لیکر خطبہ وہاں دیا جاتا ھے جو شہر بزور شمشیر فتح کیا گیا ھو 
آیا صوفیا خطیب کے ہاتھ میں تلوار 
خدا کی قسم طیب اردگان کی دو اندیشی اور یورپ کو کھلا پیغام ھے کہ ھم آج بھی تلوار کی زبان میں بات کرنا پسند ہے اور ھم اپنے شاندار ماضی کو نہیں بھولے ہیں
تلوار ہی ہمارے عروج کا نشان ہماری رویات کی امین اور ھمارے مستقبل کی ضمانت ھے....

Friday, January 15, 2021

مسور دال كے ‏فوائد

مسور: Lentils
مشہور مثال ہے " یہ منہ اور مسور کی دال" ۔ 
اس کا مطلب ہے کہ آپ اس کام، عہدے یا چیز اور تحفے کے قابل نہیں یعنی مسور کی دال اس قدر قیمتی کھانے کی شے ہے کہ یہ آپ کے منہ کے لئیے نہیں بنی۔ کیا واقعی ایسا ہے؟
دال مسور ( Lentils) زمانہ قدیم سے زیر استعمال ہے۔ اگر تاریخ کے ورق پرکھے جائیں تو آج سے 11000 سال قبل مسیح میں پہلی بار اسے یونانیوں نے پکایا پھر وہاں سے ایشیائی ممالک اور بھارت پہنچی اور پھر یہاں سے افریقہ، یورپ، آسٹریلیا اور امریکہ میں۔ 
دل Dal اصل میں سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کٹا ہوا۔ لفظ دال کٹے ہوئے دانے کو کہتے ہیں لیکن اب پکا کر کھانے والے تمام پھلی دار بیجوں کے لئیے یہی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ دال مسور پیدا کرنے والا ملک کینیڈا   اور دوسرے نمبر پر بھارت ہے جو دنیا کی کل مانگ کا 58% پورا کرتے ہیں۔ اس کے بعد ترکی، آسٹریلیا اور نیپال کا نمبر آتا ہے جبکہ پاکستان اس فہرست میں اٹھارویں نمبر پر ہے۔
دال مسور غذائیت و معدنیات سے بھرپور مالامال پودا ہے۔
۰ اگر آپ گوشت نہیں کھا سکتے تو مسور کھائیں! جی ہاں، اس میں بڑی مقدار میں پروٹین موجود ہے ۔ یہ وہی پروٹین ہے جو آپ گوشت سے حاصل کرتے ہیں اور جو آپ کے مسلز یا پٹھے بنا کر انہیں مضبوط کرتا ہے۔ اس لئیے گیم کرنے والے لوگوں کے لئیے بھی یہ دال بہت زبردست غذا ہے۔
۰ اس میں بڑی مقدار میں کاربو ہائیڈریٹ موجود ہے جو آپ کا دل و دماغ مضبوط کرتا ہے اور جسم کی توانائی اور غذائی  ضروریات پوری کرتا ہے۔ تاہم کچھ لوگوں کا جسم کاربو ہائیڈریٹ ٹھیک طرح ہضم نہیں کرتا اور گیس کی شکائیت ہوجاتی ہے۔ اگر ایسا ہو تو مسور کی  دوسری قسم استعمال کریں۔ 
۰ اس میں اچھی خاصی مقدار میں Folate موجود ہے۔ فولیٹ وہ غذائی شے ہے جو حاملہ خواتین کے لئیے بہت اچھی ہے۔ یہ بچے کو بہت ساری پیدائشی بیماریوں (Birth Defects) سے بچاتی ہے۔ اس لئیے حمل کے ابتدائی مہینوں میں اس کا استعمال بہت اچھا ہے۔
۰ اس میں Celenium موجود ہے جو ایک بڑا ہی اہم غذائی جزو ہے۔ سیلینیم ایک Antioxidant ہے جو ہمارے دل کو مضبوط کرتا ہے جسم میں کینسر کے خلاف لڑتا ہے اور جسم میں T Cells پیدا کرتا ہے۔ T Cells ہمارے جسم کا مدافعتی نظام ہیں جو جسم میں داخل ہونے والے بیکٹیریا اور وائیرس کے اوپر غلاف چڑھا کر انہیں مار  ڈالتے ہیں اور اپنی نسل بڑھانے نہیں دیتے۔ 
۰ اس میں فائیبر موجود ہے جو ہاضمے کے لئیے اچھا ہے اور چربی گھولتا ہے خون کی نالیاں کھولتا ہے۔ البتہ دلی ہوئی یا ملکہ مسور میں چھلکا اترنے کی وجہ سے یہ غذائیت کم پائی جاتی ہے۔
۰ اس میں پوٹاسئیم موجود ہے جو ہڈیاں  مضبوط کرتا ہے گردے کی پتھری سے بچاتا ہے اور بلڈ پریشر  کو بحال رکھتا ہے۔
۰ یہ ہائی بلڈ شوگر کو بھی نارمل کرتی ہے اور شوگر کے مریضوں کے لئیے بطور خوراک بہت اچھی Balance Diet ہے۔
پاک و ہند میں اسے مصالحے دار طریقے سے تڑکا لگا کر پکایا جاتا ہے ۔ پیلی پکی ہوئی پتلی دال کو چاولوں کے ساتھ دنیا بھر میں کھایا جاتا ہے۔ ملکہ مسور سے زیادہ ثابت مسور ( میری فیورٹ) اچھی ہے جس میں بےپناہ غذائیت ہے۔ لیکن اکثر لوگ ملکہ مسور پسند کرتے ہیں کیونکہ یہ جلدی پکتی اور آسانی سے ہضم ہوتی ہے۔ آپ ثابت مسور کو ابال کر سلاد کے ساتھ بھی چمچ کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔ 
کیا ہم کچی دال کھا سکتے ہیں؟ 
بالکل نہیں! اس کی وجہ اس میں موجود ایک پروٹین ہوتا ہے جسے Lectin کہتے ہیں۔ یہ زہریلا اثر رکھتا ہے اگر آپ کچی دال جو کہ ہوتی بھی سخت ہے، چباکر نگلیں گے تو تھوڑی دیر میں ہی الٹئیاں اور ہیضہ ہوجائے گا۔  اسی لئیے اسے لازمی پکا کر کھائیں یا ابالیں۔پکانے سے Lectin کا اثر ختم ہوجاتا ہے۔ 
اس کو اگر کچا کھانا ہی ہے تو اسے Sprout کرکے کھائیں۔ یہ ایک طریقہ ہے جس میں ثابت مسور کو ایک دن بھگو کر رکھا جاتا ہے پھر اس کے برتن پر کپڑا رکھ کر  ڈھانک دیا جاتا ہے، کچھ گھنٹوں بعد اسے دوبارہ پانی میں چند منٹ بھگو کر پانی نتھار لیا جاتا ہے اور پھر کپڑے سے  ڈھانک دیا جاتا ہے۔ یہ عمل کچھ دفعہ کرنے سے دو تین دن میں بیج میں سے ہلکے ننھے سےسبز رنگ کے پودے نکل آتے ہیں۔ اب چاہیں تو انہیں ایسے ہی کھائیں، ابال لیں یا پکا کر کھائیں یا چاہیں تو مٹی میں لگا کر کاشت کر  ڈالیں۔ sprout طریقے سے کھانے سے مذید غذائیت اور مختلف زائقہ ملتا ہے۔
دال مسور ٹھنڈے موسم کا پودا ہے یہ کسی بھی ایسے  علاقے میں کاشت ہوسکتی ہے جہاں مناسب مٹی، مناسب پانی اور دھوپ ہو۔ یہ تھور زدہ مٹی میں بھی اگ آئے گی لیکن پیداوار کم دے گی۔ اسے موسم بہار کے ابتدائی ہفتوں یعنی اپریل کے شروع میں اگائیں۔ اگانے سے پہلے زمین کی تمام جڑی بوٹیاں نکال پھینکیں اور اسے ایک صاف ستھری زمین مہیا کریں۔ بیج کو ایک انچ کی دوری سے  ڈیڑھ دو انچ زمین کے اندر دبا دیں۔ اگانے کے دوران اس بات کا خیال رکھیں کہ زمین نم رہے لیکن پانی ہرگز کھڑا نہ ہونے دیں۔ چند ماہ میں فصل تیار ہوجائے گی اسے بارشوں کے مہینوں کے بعد، جب پودا پیلا اور اسکی پھلیاں برائون ہوجائیں، کٹائی کریں۔ پھلیوں کو سخت ہونے کے بعد ان سے بیج نکال لیں۔
بہت سارے ممالک میں اس کو پیس کر ان کا آٹے کے پاپڑ اور دوسری اشیا بنائی جاتی ہیں اور ان کو خشک بھون کر بھی کھایا جاتا ہے تاہم ایسے انکی غذائیت میں کمی آتی ہیں۔ ان کی مختلف قسمیں جیسے ثابت مسور (Brown Lentil), ملکہ مسور (Red lentils), سبز مسور (Green Lentils) اور beluga lentils موجود ہیں۔ آپ کو کونسی پسند ہے کمنٹ کریں۔ 
تحریر: Azeem Latif

*ایک انتہائی سبق آموز کہانی...!* 💔

*راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تو تکرار ہو گئی.....* تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گیا ، بوڑھے آدمی کا غصہ...