Wednesday, February 4, 2026

*ایک انتہائی سبق آموز کہانی...!* 💔



*راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تو تکرار ہو گئی.....*


تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گیا ، بوڑھے آدمی کا غصہ اب بھی اپنی جگہ قائم تھا ۔ وہ کسی طرح اس سے اس لڑائی کا بدلہ لینا چاہتا تھا ۔ جسمانی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے وہ نوجوان سے مار پیٹ تو نہیں کر سکتا تھا لیکن اس نے اسکا ایک اور حل نکالا ۔۔۔


بوڑھے نے نوجوان کے بارے میں "افواہ" پھیلانا شروع کر دی کہ وہ "چور" ہے ۔ وہ ہر رہگزر سے یہی بات کرتا ۔ ۔ ۔ کئی لوگ اسکی بات کو ان سنا کرتے لیکن چند لوگ یقین بھی کر لیتے تھے ۔ کچھ دن گزرے تو پاس کے علاقے میں کسی کی چوری ہو گئی ۔ لوگوں کے دلوں میں بوڑھے نے پہلے ہی نوجوان کے خلاف شک ڈال دیا تھا ۔ چوری کے الزام میں نوجوان کو پکڑ لیا گیا ۔ ۔ لیکن چند ہی دنوں میں اصل چور کا پتا لگنے پر اسے کو رہائی مل گئی ۔ ۔


رہا ہوتے ہی اس نے علاقے کے سردار سے بوڑھے آدمی کی شکایت کی جس کی بنا پہ بوڑھے کو پنچائیت میں بلایا گیا ۔ ۔ ۔ بوڑھے نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے صفائی پیش کی ۔۔ سردار نے بوڑھے کو حکم دیا کہ اس نے جو جو افواہ نوجوان کے بارے میں پھیلائی ہے ۔ ۔ وہ سب ایک کاغذ پہ لکھے اور پھر اس کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے چوراہے میں جا کے ہوا میں اڑا دے ۔ ۔ اگلے دن بوڑھے کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا ۔۔


بوڑھا سر دار کا حکم بجا لیا ۔ ۔ کاغذ پہ سب کچھ لکھا اور اس کے ٹکڑے ہوا میں اڑا دیے ۔ اگلے دن جب پنچائیت لگی ۔۔ سبھی لوگ جمع ہوئے ۔ بوڑھے نے رحم کی استدعا کی ۔ ۔ سردار نے کہا کہ اگر وہ سزا سے بچنا چاہتا ہے تو کاغذ کے وہ سارے ٹکڑے جمع کر کے لائے جو کل اس نے ہوا میں اڑا دیے تھے ۔ بوڑھا پریشان ہو کے بولا کہ یہ تو نا ممکن سی بات ہے


سردار نے جواب دیا کہ تم نے نوجوان کے بارے میں اسی طرح ہوا میں "افواہ" پھیلائی ۔ ۔ تمہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے کہ تمہاری یہ "افواہ " کہاں کہاں تک پہنچی ہوگی ۔ ۔ ۔ اگر تم کاغذ کے ٹکڑے واپس نہیں لا سکتے تو وہ "افواہ " کیسے واپس لاؤ گے جس کی وجہ سے نوجوان بدنام ہوا ہے ۔ بوڑھے نے ندامت سے سر جھکا لیا۔۔۔


یہ انگریزی زبان کا ایک چھوٹا سا قصہ ہے ۔ جس میں سمجھداروں کے لیے ایک بہت بڑا سبق موجود ہے ۔


کئی بار ہم بنا تصدیق کے لوگوں کے بارے میں "افواہیں " پھیلانا شروع کر دیتے ہیں ۔ ہماری بنا سوچے سمجھے کی گئی چھوٹی سے بات کسی اور کی زندگی پر کتنا اثر انداز ہو سکتی ہے اسکا شائد ہمیں اندازہ بھی نہیں ہے ۔

اس لیے منہ کھولنے سے پہلے تصدیق بہت ضروری ہے


منقول

دوسروں کی مدد کرنا اپنا ایک فریضہ سمجھیں۔۔۔

 *دوسروں کی مدد کرو، چاہے وہ اس کا بدلہ دینے کے قابل نہ ہوں۔*


*حقیقی انسانیت یہی ہے کہ ہم نیکی اس نیت سے کریں کہ سامنے والا ہمیں کچھ لوٹائے نہیں، بلکہ اس لیے کہ یہ درست کام ہے۔ جب آپ کسی کمزور، مجبور یا خاموش دل کی مدد کرتے ہیں، تو دراصل آپ اپنے کردار کو بلند کرتے ہیں۔ نیکی کا بدلہ ہمیشہ لوگوں سے نہیں ملتا، مگر زندگی، سکونِ دل اور اللہ کی رضا کی صورت میں ضرور ملتا ہے۔✨❤️*

اپنا جائزہ تو لیجئے

 *اپناجائزہ تولیجیے*

〰️〰️🍃🔺🍃〰️〰️


*مچھلی پانی میں ہی پیدا ہوتی ہے اسے کیا معلوم کہ یوں پانی میں رہنا ڈوب کر مرنے کا باعث ہے،*


جنات آگ کے بنے ہیں انھیں کیا معلوم کہ آگ جسم کو جلا دیتی ہے،. 


کیڑے مکوڑے زیر زمین رہتے ہیں وہ بھی بے خبر ہیں کہ زیر زمین مردے دفن کئے جاتے ہیں،


▪️ *اسی طرح جب ہم برائی کے ماحول میں پلتے بڑھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ اچھائی کی سفارشات کیا ہوتی ہیں ۔* 


 ▪️آج کی پرورش ہی ٹیلیویژن اور بے لگام موبائل فون کے سامنے ہو رہی ہے۔۔

▪️ *آپ نے یقیناً محسوس کیا ہوگا کہ جب ابتدا میں ہم نے ڈرامے دیکھنا شروع کئے تھے تب ہمیں بیوی اور بہنوں بیٹیوں کی موجودگی کی وجہ سے ڈرامے کے کئی مراحل پر ناگواری محسوس ہوتی تھی...*


▪️ *لیکن آج کسی صابن کے اشتہار میں جب آنکھوں کے عین سامنے آیک نیم برہنہ خاتون کو نہاتے ہوئے جسم پر صابن لگاتے دکھایا جاتا ہے تو جنبش بھی پیدا نہیں ہوتی کیونکہ گندے جوہڑ کے حشرات کی طرح غلیظ پانی میں رہ رہ ہم پاکیزگی کے اطوار بھول چکے ہیں ۔*


▪️ *آج فلمی انداز کے نیم برہنہ لباس جب ہم اپنی معصوم بچیوں کو پہناتے ہیں* تو درحقیقت ہم *اس ناری ماحول کی طرف انھیں لے کے جا رہے ہوتے ہیں جو جسم کو جلا دیتا ہے،*

یونیورسٹی میں بیٹوں کا لڑکیوں کے ساتھ مل بیٹھنا اب والدین کو بھی برا نہیں لگتا کیونکہ ہم مینڈک کی طرح گرم پانی میں خود کو ڈھالتے جا رہے ہیں،. 


🍃 *تہذیب جو کسی مذہب اور خطے کا لباس ہوتی ہے اسے ہم تاریخ کی کتابوں میں بند کرتے جا رہے ہیں۔* 


*ٹیلیویژن کی سکرین سے لے کر شادی بیاہ اور منگنی کی تقاریب تک ہم ایک جس ماحول کی طرف بڑھ رہے ہیں*. 


🍁 *یہ ماحول کل تک ہمارے آباؤ اجداد کے سامنے حد درجہ قابل نفرت تھا،*

،

 *اپنے آپ کو دیکھو اور اپنی آنے والی نسلوں کو بچاو اس آگ سے جس نے سب کچھ جلا کر راکھ کر دینا ہے ۔*


☘️ *شرم و حیا جو مسلمان کے لیے کئی برائیوں کے خلاف ایک ڈھال کی حیثیت رکھتی ہے* کہیں ہم یہ ڈھال پھینک تو نہیں رہے؟. 


🔺 *کہیں ہم وہ بیج تو نہیں بو رہے جس کی جڑیں کل کو ہماری عمارت ہی اکھاڑ پھینکیں گی.... ؟؟؟؟؟*


*اک چھوٹی سی کوشش اپنی آنکھیں کھولنے کی۔*

*ایک انتہائی سبق آموز کہانی...!* 💔

*راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تو تکرار ہو گئی.....* تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گیا ، بوڑھے آدمی کا غصہ...