Homo Heidelbergensis, an Outcast
(Reality of Darwinian Monkey Business)
------------------------------------------------
پچھلے چند سالوں میں جو تحقیقات جدید سائنس کے ذریعے سامنے آئی ہیں وہ انسانی ارتقاء کو تضادات اور اختلافات کا مجموعہ بنا چکی ہیں اور ڈارونین میڈیا ہمیشہ کی طرح ایسی تحقیقات کو غیر اہم بنا کر پیش کرتا ہے یا مختلف رنگ سے رنگین کر کے پیش کرتا ہے۔ جبکہ سائنسی پیپرز میں پیچیدہ ٹرمینالوجی سے بات کی جاتی ہے جو عوام سمجھ نہیں سکتی۔ چاہے اسٹرالوپتھکس ہو، ہومو ہیبیلس ہو، ہومو ایرکٹس ہو یا ہومو ہائیڈلبرگینسیس ہو تمام تر انسانی سپیشیز کہلائے جانے والے اور انسانوں سے منسلک کیے گئے یہ فاسلز علاقائی (Regional) لحاظ سے اور اپنی فاسل عمر (Fossil Dating) کے لحاظ سے انسانی ارتقاء کے ماڈل پر سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ انسانی ارتقاء درجہ بہ درجہ بندر نما جاندار سے انسان بننے کے ارتقائی منازل طے کرتا ہوا دیکھایا، بتایا اور پڑھایا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں انسانی ارتقاء کے رائج ماڈل کی سائنسی پہلو سے معقولیت زمین بوس ہوچکی ہے۔ مثال کے طور پہ جن فاسل سپیشیز کو لاکھوں سال پرانا ارتقائی جد مانا جاتا تھا وہ بھی انسانوں کے ساتھ موجود تھیں اور جن سپیشیز کو بندر نما جسمانی اور شکلی خصوصیات کا حامل قرار دیا جاتا تھا وہ بھی انسانوں کے ساتھ موجود تھیں۔
ہومو ہائڈلبرگینسیس (H.Heidelbergensis) نامی سپیشیز اس پوسٹ کا موضوع ہے۔ اس کو انسانی ارتقاء میں بنیادی حیثیت حاصل ہے کیونکہ اس کو تین مختلف انسانی نسلوں سیپیئن، نینڈرتھل اور ڈینی سوون کا ماضی میں پایا جانے والا جد (Ancestor) مانا جاتا ہے۔ ڈارونین تھیوری کے مطابق یہ بندر نما اسٹرالوپتھکس سے موجودہ انسانوں کے ارتقاء میں قریبی دور کی اہم درمیانی کڑی ہے۔ سو سال کی ارتقائی کہانیوں کے بعد حال ہی میں یہ ارتقائی بیانیہ بھی غلط ثابت ہوچکا ہے۔
پیرگراف 1:
آج سے تقریباً ایک سو سال پہلے 1921 میں افریقی ملک زامبیا (Zambia) میں کان کنی کے دوران ایک اچھی حالت میں محفوظ فاسل کھوپڑی دریافت ہوئی۔ اس فاسل کو "Kabwe-1" کا نام دیا گیا. اس فاسل کھوپڑی کا دماغی سائز 1300 کیوبک سینٹی میٹر تھا جو تقریباً موجودہ انسانوں کے دماغی سائز جتنا بنتا ہے۔ یہ پیچیدہ قسم کے اوزار اور کلہاڑی وغیرہ بنانے میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ اس کھوپڑی کی آنکھوں کے اوپر والی ہڈیوں میں ابھار(Supraorbital Torus) تھا۔ یہ فاسل کھوپڑی قدرے بیضوی تھی اور اس کے پچھلے حصے میں باہر کی طرف ابھار(Occipital Bun) تھا۔ اس طرح کی دیگر خصوصیات کی بنا پہ ارتقائی سائنسدانوں نے فوراً اس فاسل کھوپڑی کو آج سے 5 لاکھ سال پہلے پایا جانے والا ارتقائی مشترکہ جد قرار دے دیا جس سے نینڈرتھل، ڈینی سون اور سیپیئن انسانی نسلوں کا ارتقاء ہوا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جس علاقے میں کان کنی کے دوران یہ فاسل دریافت ہوا اس کی آرکیولاجک ڈیٹنگ ممکن نہیں ہو پائی کیونکہ وہ تہ کان کنی اور کھدائی کی وجہ سے ختم ہوگئی۔ اب یہاں سوال بنتا ہے کہ اگر ایسا تھا تو پھر یہ کس طرح پتہ چلا کہ یہ 5 لاکھ سال پرانا فاسل ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خالصتاً ارتقائی اندازوں اور ارتقائی قیاس آرائیوں پہ مبنی تھا کہ نہ صرف یہ فاسل 5 لاکھ سال پرانا ہے بلکہ تین انسانی نسلوں کا مشترکہ جد بھی ہے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے یہی بیانیہ عام تھا۔
"The cranium from Broken Hill (Kabwe) was recovered from cave deposits in 1921, during metal ore mining in what is now Zambia. It is one of the best-preserved skulls of a fossil hominin, and was initially designated as the type specimen of Homo rhodesiensis, but recently it has often been included in the taxon Homo heidelbergensis. However, the original site has since been completely quarried away, and—although the cranium is often estimated to be around 500 thousand years old. its unsystematic recovery impedes its accurate dating and placement in human evolution."
https://www.nature.com/articles/s41586-020-2165-4
پیراگراف 2:
اس سال 2020 میں نیچر جریدے میں ایک سائنس پیپر پبلش ہوا جس میں اس اہم ترین فاسل کھوپڑی Kabwe-1 کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے فاسل ڈیٹنگ کے مراحل سے گزارا ہوگیا اور جو نتیجہ نکلا اس نے انسانی ارتقاء کا پورا ماڈل ہلا کر رکھ دیا۔ جو فاسل کھوپڑی 5 لاکھ سال پرانی کہی جاتی تھی اور ہومو سپیئن کا ارتقائی جد مانی جاتی تھی وہ حالیہ فاسل ڈیٹنگ کے مطابق تقریباً 3 لاکھ سال پرانی نکلی۔ یعنی ہومو ہائڈلبرگینسیس اور ہومو سیپیئن ایک ہی وقت میں موجود تھے کیونکہ ہومو سیپیئن کے بھی 3 لاکھ سال پرانے فاسلز موجود ہیں۔ یہ سائنسی تحقیق اس بیانیے کو ناممکن بنا دیتی ہے کہ موجودہ ہومو سیپیئن ہومو ہائڈلبرگینسیس سے لاکھوں سال کے ساختی ارتقاء سے وجود میں آئے۔ یہ انسانی ارتقاء کے رائج ماڈل کی بہت بڑی ناکامی ہے۔
"Here we carried out analyses directly on the skull and found a best age estimate of 299 ± 25 thousand years.........The age estimate also raises further questions about the mode of evolution of H. sapiens in Africa and whether H. heidelbergensis/H. rhodesiensiswas a direct ancestor of our species."
https://www.nature.com/articles/s41586-020-2165-4
پیراگراف 3:
اس فاسل کھوپڑی کی عمر پہ لگائے جانے والے اندازے اور قیاس آرائیاں وقت کے ساتھ ساتھ کم ازکم تین دفعہ تبدیلی کے مراحل سے بھی گزری ہیں۔ مثال کے طور پہ 1970 کے دوران یہ مانا جاتا تھا کہ Kabwe-1 فاسل کھوپڑی 30 ہزار سال پرانی ہے۔ پھر اگلی دہائیوں میں یہ کہانی سامنے ائی کہ Kabwe-1 فاسل کھوپڑی تو 5 لاکھ سال پرانی ہے اور اب تک یہی کہانی مشہور تھی۔ اس سال اس کی عمر کا اندازہ پھر لگایا گیا ہے اور پتہ چلا کہ یہ اصل میں 3 لاکھ سال پرانی ہے۔ ارتقائی سائنس میں فاسلز کی عمر کتنے مستند طریقے سے نکالی جاتی ہے اس کا اندازہ یہیں سے لگا لیں۔
"It was the first discovered remains of premodern Homo in Africa and until the early 1970s was considered to be 30,000 to 40,000 years old—only one-tenth its true age."
https://www.britannica.com/topic/Kabwe-cranium
پیراگراف 4:
انسانی ارتقاء کے ماڈل میں جن فاسلز کو ابتدائی حیوانی سپیشیز قرار دیا جاتا ہے وہ اصل میں انسانوں کے ساتھ موجود تھیں۔ مثال کے طور پہ ہومو ایرکٹس (H.Erectuc) کو تقریباً بیس لاکھ سال پرانا ابتدائی حیوانی انسان مانا جاتا ہے جس سے ارتقاء کر کے موجودہ انسان وجود میں آئے۔ لیکن حالیہ سائنسی تحقیقات کے مطابق انڈونیشیا میں ہومو ایرکٹس کے صرف 1 لاکھ سال پرانے فاسلز دریافت ہوئے ہیں جبکہ ہومو سیپیئن 3 لاکھ سال پہلے فاسل ریکارڈ میں ظاہر ہوئے۔ یعنی موجودہ ہومو سیپیئن اور ہومو ایرکٹس ماضی میں ایک ہی وقت میں موجود رہے ہیں۔ یہ نہایت غیر متوقع شواہد ہیں جو انسانی ارتقاء کے ماڈل کے خلاف ہیں۔
اسی طرح ہومو نالیدی (H.Naledi) کے فاسلز پہ 2015 میں eLife جریدے میں ایک سائنسی پیپر پبلش ہوا اور ان فاسلز کو ایک نئی سپیشیز قرار دیا گیا جن کی ساخت بندر نما اسٹرالوپتھکس سے ملتی تھی۔ یہ بندر نما فاسلز جنوبی افریقہ میں ایک غار سے دریافت ہوئے تھے۔ جب فاسل ڈیٹنگ کے نتائج آئے تو غیر متوقع طور پہ ان کی عمر دو لاکھ اسّی ہزار سال قرار پائی۔ یعنی ہومو سیپیئن کے وقت میں یہ بندر نما سپیشیز بھی زندہ موجود تھی۔ اس طرح کی ساخت والی سپیشیز کو بہت پہلے ماضی میں ہونا چاہیے تھا نہ کہ اتنا کم عرصہ پہلے ہومو سیپیئن کے وقت میں موجود ہونا چاہیے تھا۔ انسانی ارتقاء کا ماڈل یہاں بھی ناکام ہے۔
ہومو فلور ایسیئنسیس (H.Floresiensis) نامی سپیشیز بھی صرف اٹھارہ ہزار سال پہلے انسانوں کے ساتھ موجود تھی۔ جبکہ اس کی ساخت میں ارتقائی سائنسدان کے مطابق ماضی کے بندر نما اسٹرالوپتھکس جیسی خصوصیات اور مماثلتیں تھیں۔ ڈارون پرست سائنسدان اس کو نئی سپیشیز مانتے ہیں جبکہ بہت سی سائنسی تحقیقات کے مطابق یہ سپیشیز موجودہ انسانوں کا ایک گروہ تھا جو جسمانی طور پہ معذور تھا۔ جس کی وجہ سے ان کی کھوپڑی اور جسمانی سٹرکچر عام انسانوں سے مختلف تھا۔ اس سپیشیز پہ تفصیلی معلومات کے لئے یہ پوسٹ پڑھیں۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=183989902907875&id=100038905981584
ہومو لوزونینسیس (H.Luzonensis) نامی سپیشیز کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ ان کی فاسل ڈیٹنگ کے مطابق یہ بھی پچاس ہزار سال پہلے ہومو سیپیئن کے ساتھ موجود تھے۔
ڈارونین تھیوری کا دعویٰ یہ تھا کہ ہومو ایرکٹس، ہومو ہائڈلبرگینسیس اور دیگر حیوانی اور بندر نما ساخت کے فاسلز صرف ماضی میں ہونے چاہیں کیونکہ ان سے ارتقاء کر کے موجودہ انسان وجود میں آئے۔
لیکن ایسا بالکل بھی نہیں!
انسانی ارتقاء کا پورا ماڈل تضادات اور اختلافات کا مجموعہ بن چکا ہے جو صرف معذرت خواہانہ کہانیوں پہ زندہ ہے۔
"The result suggests that later Middle Pleistocene Africa contained multiple contemporaneous hominin lineages (that is, Homo sapiens, H. heidelbergensis/H. rhodesiensis and Homo naledi), similar to Eurasia, where Homo neanderthalensis, the Denisovans, Homo floresiensis, Homo luzonensis and perhaps also Homo heidelbergensis and Homo erectus were found contemporaneously."
https://www.nature.com/articles/s41586-020-2165-4
ڈارونین اسٹیبلشمنٹ اتنی بڑی ناکامی کو بھی بڑے نرم اور مبہم انداز میں پیش کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حالیہ تحقیقات نسل در نسل چلنے والے ارتقائی ماڈل کو زمین بوس کر چکی ہیں۔ اس بیانیہ کے خلاف بہت سے سائنسی شواہد آ چکے ہیں جو کسی بھی طرح انسانی ارتقاء کے ماڈل کے حق میں نہیں ہیں۔ ہومو ہائڈلبرگینسیس کو ایک صدی تک ارتقائی اندازوں پہ زندہ رکھا گیا۔ اس کو انسانوں کا ماضی میں پایا جانے والا حیوانی ساخت کا مشترکہ جد مانا جاتا تھا لیکن یہ بیانیہ بھی آخر کار غلط ثابت ہوگیا۔
--------------------------------------------------