Thursday, January 28, 2021

Un Educated Judge....

(کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں)
آپ نے یہ منقولہ تو بچپن سے سنا ہوگا مگر کے پیچھے کی داستان کا نہیں پتا ہوگا ۔
کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے، پٹیالہ کے سب سے بااثر بڑے جاگیردار اور گاؤں کے پنچایتی سرپنچ بھی تھے،
ایک دن معملات سے تنگ آکر بھانجے کے پاس پہنچے اور کہا کہ شہر کے سیشن جج کی کرسی خالی ہے مجھے جج لگوا دے،
(ان دنوں کسی بھی سیشن جج کے آڈر انگریز وائسراۓ کرتے تھے)
بھانجے سے چھٹی لکھوا کر کھڑک سنگھ وائسرائے کے پاس جاپہنچے، وائسرائے نے خط پڑھا
وائسرائے۔ نام؟
کھڑک سنگھ'
وائسرائے۔ تعلیم؟
کھڑک سنگھ۔ "تسی مینو جج لانا ہے یا سکول ماسٹر؟"
وائسرائے ہنستے ہوئے 'سردار جی میرا مطلب قانون کی کوئی تعلیم بھی حاصل کی ہے یا نہیں اچھے برے کی پہچان کیسے کرو گے'؟
کھڑک سنگھ نے موچھوں کو تاؤ دیا اور بولے " بس اتنی سی بات بھلا اتنے سے کام کے لیے گدھوں کی طرح کتابوں کا بوجھ کیوں اٹھاؤ میں سالوں سے پنچائت کے فیصلے کرتا آرہا ہوں ایک نظر میں بھلے چنگے کی تمیز کرلیتا ہوں"
وائسرائے نے سوچا کہ بھلا کون مہاراجہ سے الجھے جن نے سفارش کی ہے وہ جانے اور اس کا ماموں، عرضی پر دستخط کردیے اور  کھڑک سنگھ جسٹس کا فرمان جاری کردیا۔
اب کھڑک سنگھ پٹیالہ لوٹے اور اگلے دن بطور جسٹس کمرہ عدالت میں پہنچے اتفاق سے پہلا کیس قتل کا تھا،،
کٹہرے میں ایک طرف چار ملزم اور دوسری جانب ایک روتی خاتون تھی ۔
جسٹس صاحب نے کرسی پر براجمان ہونے سے پہلے فریقین کو غور سے دیکھ لیا اور معاملہ سمجھ گئے ۔
۔
ایک پولیس افسر کچھ کاغذ لے کر آیا اور بولا 'مائی لاڈ یہ عورت کرانتی کور ہے اس کا الزام ہے کہ ان چار لوگوں نے اس کے شوہر کو قتل کیا ہے'
جسٹس کھڑک سنگھ نے عورت سے تفصیل پوچھی۔
عورت بولی- "سرکار دائیں جانب والے کے ہاتھ میں برچھا تھا اور برابر والے کے ہاتھ میں رانتی اور باقی دونوں کے ہاتھوں میں سوٹے تھے، یہ چاروں کماد کے اولے سے نکلے اور کھسم کو مار مار کر جان سے مار دیا"
جسٹس کھڑک سنگھ نے چاروں کو غصہ سے دیکھا اور پوچھا 'کیوں بدمعاشو تم نے بندہ مار دیا'؟
دائیں طرف کھڑے بندے نے کہا 'نہ جی سرکار میرے ہاتھ میں تو کئی تھی دوسرے نے کہا میرے ہاتھ میں بھی درانتی نہیں تھی ہم تو صرف بات کرنے گئے تھے اور ہمارا مقصد صرف سمجھایا تھا"
کھڑک سنگھ نے غصہ سے کہا جو بھی ہو بندہ تو مرگیا نا؟
پھر قلم پکڑ کر کچھ لکھنے لگے تو اچانک ایک کالا کوٹ پہنے شخص کھڑا ہوا اور بولا مائی لاڈ رکھئے "یہ کیس بڑا پیچیدہ ہے یہ ایک زمین کا پھڈا تھا اور جس زمین پر ہوا وہ زمین بھی ملزمان کی ہے بھلا مقتول وہاں کیوں گیا؟
جسٹس کھڑک سنگھ نے پولیس افسر سے پوچھا یہ کالے کوٹ والا کون ہے ؟
'جناب یہ ان چاروں کا وکیل ہے' پولیس والے نے جواب دیا۔
تو انہیں کا بندہ ہوا نا جو ان کی طرف سے بات کررہا ہے، پھر کھڑک سنگھ نے وکیل صفائی کو بھی ان چاروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا کہا پھر ایک سطری فیصلہ لکھ کر دستخط کردیے ۔
فیصلے میں لکھا تھا ( ان چاروں قاتلوں اور ان کے وکیل کو کل صبح صادق پھانسی پر لٹکا دیا جاۓ)
پٹیالہ میں ہلچل مچ گئی ہر لوگ کھڑک سنگھ کے نام سے تھر تھر کامپنے لگے کہ کھڑک سنگھ مجرموں کے ساتھ ان کے وکیلوں کو بھی پھانسی دیتا ہے، اچانک جرائم کی شرح صفر ہوگئی، کوئی وکیل کسی مجرم کا کیس نا پکڑتا، جب تک کھڑک سنگھ پٹیالہ جج رہیں ریاست میں خوب امن رہا آس پڑوس کی ریاست سے لوگ اپنے کیس کھڑک سنگھ کی عدالت میں لاتے اور فوری انصاف پاتے۔
اس واقعہ میں دور حاضر کے پڑھے لکھے ججوں کے لیے ایک گہرا سبق ہے کہ اگر انصاف فوری اور مجرموں کے ساتھ ان کے وکیلوں کو بھی سزا ملنے لگے تو ملک میں جرائم کی شرح صفر ہوجاۓ گی

Change The Lens Change The World

.......تلوار اور عالم اسلام......

اسلامی سطوت وہیبت کی جھلک
پروفیسر علی ارباش آیا صوفیہ کےممبر پر تقریبا نوے سال بعد ہاتھ میں تلوار لیئے بیٹھے ہیں 
فقہ حنفی میں خطیب کو ہاتھ تلوار لیکر خطبہ پڑھنے کے متعلق اختلاف ہے 
کچھ علماء سنت کہتے ہیں 
کچھ غیر سنت کہتے ہیں 
جبکہ حقیقت میں ہاتھ میں تلوار لیکر خطبہ وہاں دیا جاتا ھے جو شہر بزور شمشیر فتح کیا گیا ھو 
آیا صوفیا خطیب کے ہاتھ میں تلوار 
خدا کی قسم طیب اردگان کی دو اندیشی اور یورپ کو کھلا پیغام ھے کہ ھم آج بھی تلوار کی زبان میں بات کرنا پسند ہے اور ھم اپنے شاندار ماضی کو نہیں بھولے ہیں
تلوار ہی ہمارے عروج کا نشان ہماری رویات کی امین اور ھمارے مستقبل کی ضمانت ھے....

Friday, January 15, 2021

مسور دال كے ‏فوائد

مسور: Lentils
مشہور مثال ہے " یہ منہ اور مسور کی دال" ۔ 
اس کا مطلب ہے کہ آپ اس کام، عہدے یا چیز اور تحفے کے قابل نہیں یعنی مسور کی دال اس قدر قیمتی کھانے کی شے ہے کہ یہ آپ کے منہ کے لئیے نہیں بنی۔ کیا واقعی ایسا ہے؟
دال مسور ( Lentils) زمانہ قدیم سے زیر استعمال ہے۔ اگر تاریخ کے ورق پرکھے جائیں تو آج سے 11000 سال قبل مسیح میں پہلی بار اسے یونانیوں نے پکایا پھر وہاں سے ایشیائی ممالک اور بھارت پہنچی اور پھر یہاں سے افریقہ، یورپ، آسٹریلیا اور امریکہ میں۔ 
دل Dal اصل میں سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کٹا ہوا۔ لفظ دال کٹے ہوئے دانے کو کہتے ہیں لیکن اب پکا کر کھانے والے تمام پھلی دار بیجوں کے لئیے یہی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ دال مسور پیدا کرنے والا ملک کینیڈا   اور دوسرے نمبر پر بھارت ہے جو دنیا کی کل مانگ کا 58% پورا کرتے ہیں۔ اس کے بعد ترکی، آسٹریلیا اور نیپال کا نمبر آتا ہے جبکہ پاکستان اس فہرست میں اٹھارویں نمبر پر ہے۔
دال مسور غذائیت و معدنیات سے بھرپور مالامال پودا ہے۔
۰ اگر آپ گوشت نہیں کھا سکتے تو مسور کھائیں! جی ہاں، اس میں بڑی مقدار میں پروٹین موجود ہے ۔ یہ وہی پروٹین ہے جو آپ گوشت سے حاصل کرتے ہیں اور جو آپ کے مسلز یا پٹھے بنا کر انہیں مضبوط کرتا ہے۔ اس لئیے گیم کرنے والے لوگوں کے لئیے بھی یہ دال بہت زبردست غذا ہے۔
۰ اس میں بڑی مقدار میں کاربو ہائیڈریٹ موجود ہے جو آپ کا دل و دماغ مضبوط کرتا ہے اور جسم کی توانائی اور غذائی  ضروریات پوری کرتا ہے۔ تاہم کچھ لوگوں کا جسم کاربو ہائیڈریٹ ٹھیک طرح ہضم نہیں کرتا اور گیس کی شکائیت ہوجاتی ہے۔ اگر ایسا ہو تو مسور کی  دوسری قسم استعمال کریں۔ 
۰ اس میں اچھی خاصی مقدار میں Folate موجود ہے۔ فولیٹ وہ غذائی شے ہے جو حاملہ خواتین کے لئیے بہت اچھی ہے۔ یہ بچے کو بہت ساری پیدائشی بیماریوں (Birth Defects) سے بچاتی ہے۔ اس لئیے حمل کے ابتدائی مہینوں میں اس کا استعمال بہت اچھا ہے۔
۰ اس میں Celenium موجود ہے جو ایک بڑا ہی اہم غذائی جزو ہے۔ سیلینیم ایک Antioxidant ہے جو ہمارے دل کو مضبوط کرتا ہے جسم میں کینسر کے خلاف لڑتا ہے اور جسم میں T Cells پیدا کرتا ہے۔ T Cells ہمارے جسم کا مدافعتی نظام ہیں جو جسم میں داخل ہونے والے بیکٹیریا اور وائیرس کے اوپر غلاف چڑھا کر انہیں مار  ڈالتے ہیں اور اپنی نسل بڑھانے نہیں دیتے۔ 
۰ اس میں فائیبر موجود ہے جو ہاضمے کے لئیے اچھا ہے اور چربی گھولتا ہے خون کی نالیاں کھولتا ہے۔ البتہ دلی ہوئی یا ملکہ مسور میں چھلکا اترنے کی وجہ سے یہ غذائیت کم پائی جاتی ہے۔
۰ اس میں پوٹاسئیم موجود ہے جو ہڈیاں  مضبوط کرتا ہے گردے کی پتھری سے بچاتا ہے اور بلڈ پریشر  کو بحال رکھتا ہے۔
۰ یہ ہائی بلڈ شوگر کو بھی نارمل کرتی ہے اور شوگر کے مریضوں کے لئیے بطور خوراک بہت اچھی Balance Diet ہے۔
پاک و ہند میں اسے مصالحے دار طریقے سے تڑکا لگا کر پکایا جاتا ہے ۔ پیلی پکی ہوئی پتلی دال کو چاولوں کے ساتھ دنیا بھر میں کھایا جاتا ہے۔ ملکہ مسور سے زیادہ ثابت مسور ( میری فیورٹ) اچھی ہے جس میں بےپناہ غذائیت ہے۔ لیکن اکثر لوگ ملکہ مسور پسند کرتے ہیں کیونکہ یہ جلدی پکتی اور آسانی سے ہضم ہوتی ہے۔ آپ ثابت مسور کو ابال کر سلاد کے ساتھ بھی چمچ کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔ 
کیا ہم کچی دال کھا سکتے ہیں؟ 
بالکل نہیں! اس کی وجہ اس میں موجود ایک پروٹین ہوتا ہے جسے Lectin کہتے ہیں۔ یہ زہریلا اثر رکھتا ہے اگر آپ کچی دال جو کہ ہوتی بھی سخت ہے، چباکر نگلیں گے تو تھوڑی دیر میں ہی الٹئیاں اور ہیضہ ہوجائے گا۔  اسی لئیے اسے لازمی پکا کر کھائیں یا ابالیں۔پکانے سے Lectin کا اثر ختم ہوجاتا ہے۔ 
اس کو اگر کچا کھانا ہی ہے تو اسے Sprout کرکے کھائیں۔ یہ ایک طریقہ ہے جس میں ثابت مسور کو ایک دن بھگو کر رکھا جاتا ہے پھر اس کے برتن پر کپڑا رکھ کر  ڈھانک دیا جاتا ہے، کچھ گھنٹوں بعد اسے دوبارہ پانی میں چند منٹ بھگو کر پانی نتھار لیا جاتا ہے اور پھر کپڑے سے  ڈھانک دیا جاتا ہے۔ یہ عمل کچھ دفعہ کرنے سے دو تین دن میں بیج میں سے ہلکے ننھے سےسبز رنگ کے پودے نکل آتے ہیں۔ اب چاہیں تو انہیں ایسے ہی کھائیں، ابال لیں یا پکا کر کھائیں یا چاہیں تو مٹی میں لگا کر کاشت کر  ڈالیں۔ sprout طریقے سے کھانے سے مذید غذائیت اور مختلف زائقہ ملتا ہے۔
دال مسور ٹھنڈے موسم کا پودا ہے یہ کسی بھی ایسے  علاقے میں کاشت ہوسکتی ہے جہاں مناسب مٹی، مناسب پانی اور دھوپ ہو۔ یہ تھور زدہ مٹی میں بھی اگ آئے گی لیکن پیداوار کم دے گی۔ اسے موسم بہار کے ابتدائی ہفتوں یعنی اپریل کے شروع میں اگائیں۔ اگانے سے پہلے زمین کی تمام جڑی بوٹیاں نکال پھینکیں اور اسے ایک صاف ستھری زمین مہیا کریں۔ بیج کو ایک انچ کی دوری سے  ڈیڑھ دو انچ زمین کے اندر دبا دیں۔ اگانے کے دوران اس بات کا خیال رکھیں کہ زمین نم رہے لیکن پانی ہرگز کھڑا نہ ہونے دیں۔ چند ماہ میں فصل تیار ہوجائے گی اسے بارشوں کے مہینوں کے بعد، جب پودا پیلا اور اسکی پھلیاں برائون ہوجائیں، کٹائی کریں۔ پھلیوں کو سخت ہونے کے بعد ان سے بیج نکال لیں۔
بہت سارے ممالک میں اس کو پیس کر ان کا آٹے کے پاپڑ اور دوسری اشیا بنائی جاتی ہیں اور ان کو خشک بھون کر بھی کھایا جاتا ہے تاہم ایسے انکی غذائیت میں کمی آتی ہیں۔ ان کی مختلف قسمیں جیسے ثابت مسور (Brown Lentil), ملکہ مسور (Red lentils), سبز مسور (Green Lentils) اور beluga lentils موجود ہیں۔ آپ کو کونسی پسند ہے کمنٹ کریں۔ 
تحریر: Azeem Latif

Wednesday, January 13, 2021

Bing Bang And The Holy Quran

کائنات کی تخلیق :بگ بینگ(Big Bang)، کائنات کا پھیلاؤ اور قرآن۔۔۔سبحان اللہ

فلکی طبیعیات کے ماہرین ابتدائے کائنات کی وضاحت ایک ایسے مظہر کے ذریعے کرتے ہیں جسے وسیع طور پر قبول کیا جاتا ہے اور جس کا جانا پہچانا نام ’’بگ بینگ‘‘ یعنی عظیم دھماکا ہے۔ بگ بینگ کے ثبوت میں گزشتہ کئی عشروں کے دوران مشاہدات و تجربات کے ذریعے ماہرین فلکیات و فلکی طبیعیات کی جمع کردہ معلومات موجود ہیں۔ بگ بینگ کے مطابق ابتدا میں یہ ساری کائنات ایک بڑی کمیت کی شکل میں تھی، (جسے Primary nebula بھی کہتے ہے) پھر ایک عظیم دھماکا یعنی بگ بینگ ہوا، جس کا نتیجہ کہکشاؤں کی شکل میں ظاہر ہوا۔ پھر یہ کہکشائیں تقسیم ہو کر ستاروں، سیاروں، سورج، چاند وغیرہ کی صورت میں آئیں۔ کائنات کی ابتدا اس قدر منفرد اور اچھوتی تھی کہ اتفاق سے اس کے وجود میں آنے کا احتمال صفر (کچھ بھی نہیں) تھا۔

قرآن پاک کی درج ذیل آیات میں ابتدائے کائنات کے متعلق بتایا گیا ہے:

” أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ [6]
ترجمہ: ’’اور کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا جنہوں نے انکار کیا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا‘‘
اس قرآنی آیت اور بگ بینگ کے درمیان حیرت انگیز مماثلت سے انکار ممکن ہی نہیں ! یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک کتاب جو آج سے 1400سال پہلے عرب کے ریگستانوں میں ظاہر ہوئی، وہ اپنے اندر ایسی غیر معمولی سائنسی حقیقت لیے ہوئے ہو۔

پھیلتی ہوئی کائنات: 
1925ء میں امریکی ماہر طبیعیات ایڈون ہبل (Edwin Hubble) نے اس امر کا مشاہداتی ثبوت فراہم کیا کہ تمام کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہٹ رہی ہیں، جس کا مطلب یہ ہو کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ یہ بات آج مسلمہ سائنسی حقائق میں شامل ہے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ قرآن پاک میں کائنات کی فطرت اور خاصیت کے حوالے سے کیا ارشاد ہوتاہے:

” وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ[7]
ترجمہ: ’’اور آسمانی کائنات کو ہم نے بڑی قوت کے ذریعہ سے بنایا اور یقیناً ہم (اس کائنات کو) وسعت اور پھیلاؤ دیتے جا رہے ہیں‘‘

عربی لفظ ’’موسعون‘‘ کا صحیح ترجمہ ’’ہم وسعت اور پھیلاؤ دیتے جا رہے ہیں‘‘ بنتا ہے اور یہ ایک ایسی کائنات کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی وسعتیں مسلسل پھیلتی جا رہی ہوں۔ عصر حاضر کا مشہور ترین فلکی طبیعیات دان اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) اپنی تصنیف اے بریف ہسٹری آف ٹائم میں لکھتا ہے۔ یہ دریافت کہ کائنات پھیل رہی ہے، بیسویں صدی کے عظیم علمی و فکری انقلابات میں سے ایک ہے۔

غور فرمائیے کہ قرآن پاک کے کائنات کے پھیلنے کو اس وقت بیان فرما دیا ہے جب انسان نے دوربین تک ایجاد نہیں کی تھی، اس کے باوجود متشکک ذہن رکھنے والے بعض لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن پاک میں فلکیاتی حقائق کا موجود ہونا کوئی حیرت انگیز بات نہیں کیونکہ عرب اس علم میں بہت ماہر تھے۔ فلکیات میں عربوں کی مہارت کی حد تک تو ان کا خیال درست ہے لیکن اس نکتے کا ادراک کرنے میں وہ ناکام ہوچکے ہیں کہ فلکیات میں عربوں کے عروج سے بھی صدیوں پہلے ہی قرآن پاک کا نزول ہو چکا تھا۔

علاوہ ازیں اوپر بیان کردہ بہت سے سائنسی حقائق، مثلا بگ بینگ سے کائنات کی ابتدا وغیرہ سے تو عرب اس وقت بھی واقف نہیں تھے جب وہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے عروج پر تھے لہٰذا قرآن پاک میں بیان کردہ سائنسی حقائق کسی بھی طرح سے فلکیات میں عربوں کی مہارت کا نتیجہ قرار نہیں دیے جا سکتے۔ درحقیقت اس کے برعکس بات سچ ہے، عربوں نے فلکیات میں اس لیے ترقی کی کیونکہ فلکیاتی مباحث کو قرآن پاک میں اہم مقام دیا گیا ہے۔

فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ۖ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ (36) ‏البقره

"انسان زمینی مخلوق نہیں ھے: 

امریکی ایکولوجسٹ ڈاکٹر ایلس سِلور کی تہلکہ خیز ریسرچ: 
ارتقاء (Evolution) کے نظریات کا جنازہ اٹھ گیا: 
ارتقائی سائنسدان لا جواب: 

انسان زمین کا ایلین ہے ۔ 

ڈاکٹر ایلیس سِلور(Ellis Silver)نے اپنی کتاب (Humans are not from Earth)  میں تہلکہ خیز دعوی کیا ہے کہ انسان اس سیارے زمین کا اصل رہائشی  نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے سیارے پر تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کے اصل سیارے سے اس کے موجودہ رہائشی سیارے زمین پر پھینک دیا گیا۔

ڈاکٹر ایلیس جو کہ ایک سائنسدان محقق مصنف اور امریکہ کا نامور ایکالوجسٹ(Ecologist)ھے اس کی کتاب میں اس کے الفاظ پر غور کیجئیے۔ زھن میں رھے کہ یہ الفاظ ایک سائنسدان کے ہیں جو کسی مذھب پر یقین نہیں رکھتا۔ 

اس کا کہنا ھے کہ انسان جس ماحول میں پہلی بار تخلیق کیا گیا اور جہاں یہ رھتا رھا ھے وہ سیارہ  ،  وہ جگہ اس قدر آرام دہ پرسکون اور مناسب ماحول والی تھی جسے  وی وی آئی پی کہا جا سکتا ھے وہاں پر انسان بہت ھی نرم و نازک ماحول میں رھتا تھا اس کی نازک مزاجی اور آرام پرست طبیعت سے معلوم ھوتا ھے کہ اسے  اپنی روٹی روزی کے لئے کچھ بھی تردد نہین کرنا پڑتا تھا ، یہ کوئی بہت ہی لاڈلی مخلوق تھی جسے اتنی لگژری لائف میسر  تھی ۔  ۔ وہ ماحول ایسا تھا جہاں سردی اور گرمی کی بجائے بہار جیسا موسم رھتا تھا اور وہاں پر سورج جیسے خطرناک ستارے کی تیز دھوپ اور الٹراوائلیٹ شعاعیں بالکل نہیں تھیں جو اس کی برداشت سے باھر اور تکلیف دہ ھوتی ہیں۔ 

 تب اس مخلوق انسان  سے کوئی غلطی ہوئی ۔۔

اس کو کسی غلطی کی وجہ سے اس آرام دہ اور عیاشی کے ماحول سے نکال کر پھینک دیا گیا تھا ۔جس نے انسان کو اس سیارے سے نکالا لگتا ہے وہ کوئی انتہائی طاقتور ہستی تھی جس کے کنٹرول میں سیاروں ستاروں کا نظام  بھی تھا  ۔۔۔ وہ جسے چاہتا ، جس سیارے پر چاہتا ، سزا یا جزا کے طور پر کسی کو بھجوا سکتا تھا۔  وہ مخلوقات کو پیدا کرنے پر بھی قادر تھا۔ 

 ڈاکٹر سلور  کا کہنا ہے کہ ممکن ہے  زمین کسی ایسی جگہ کی مانند تھی جسے جیل قرار دیا جاسکتا ھے ۔ یہاں پر صرف مجرموں کو سزا کے طور پر بھیجا جاتا ہو۔ کیونکہ زمین کی شکل۔۔ کالا پانی جیل کی طرح ہے ۔۔۔ خشکی کے ایک ایسے ٹکڑے کی شکل جس کے چاروں طرف سمندر ہی سمندر ھے ، وہاں انسان کو بھیج دیا گیا۔

 ڈاکٹر سلور ایک سائنٹسٹ ہے جو صرف مشاہدات کے نتائج حاصل کرنے بعد رائے قائم کرتا ہے ۔ اس کی کتاب میں سائنسی دلائل کا ایک انبار ہے جن سے انکار ممکن نہیں۔
اس کے دلائل کی بڑی بنیاد جن پوائنٹس پر ھے ان میں سے چند ایک ثابت شدہ یہ ہیں۔ 

نمبر ایک ۔ زمین کی کش ثقل اور جہاں سے انسان آیا ہے اس جگہ کی کشش ثقل میں بہت زیادہ فرق ہے ۔ جس سیارے سے انسان آیا ہے وہاں کی کشش ثقل زمین سے بہت کم تھی ، جس کی وجہ سے انسان کے لئے چلنا پھرنا بوجھ اٹھا وغیرہ بہت آسان تھا۔ انسانوں کے اندر کمر درد کی شکایت  زیادہ گریوٹی کی وجہ سے ہے ۔  

نمبر دو ؛انسان میں جتنے دائمی امراض پائے جاتے ہیں وہ باقی کسی ایک بھی مخلوق میں نہیں جو زمین پر بس رہی ہے ۔ ڈاکٹر ایلیس لکھتا ہے کہ آپ اس روئے زمین پر ایک بھی ایسا انسان دکھا دیجئیے جسے کوئی ایک بھی بیماری نہ ہو تو میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوسکتا ہوں جبکہ میں آپ کو ھر جانور کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ وہ وقتی اور عارضی بیماریوں کو چھوڑ کر کسی ایک بھی مرض میں ایک بھی جانور گرفتار نہیں ہے ۔ 

نمبر تین ؛ ایک بھی انسان زیادہ دیر تک دھوپ میں بیٹھنا برداشت نہیں کر سکتا بلکہ کچھ ہی دیر بعد اس کو چکر آنے لگتے ہیں اور سن سٹروک کا شکار ہوسکتا ہے جبکہ جانوروں میں ایسا کوئی ایشو نہیں ھے مہینوں دھوپ میں رھنے کے باوجود  جانور نہ تو کسی جلدی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی اور طرح کے مر ض میں مبتلا ہوتے ہیں جس کا تعلق سورج کی تیز شعاعوں یا دھوپ سے ہو۔ 

نمبر چار ؛ ہر انسان یہی محسوس کرتا ہے اور ہر وقت اسے احساس رہتا ہے کہ اس کا گھر اس سیارے پر نہیں۔ کبھی کبھی اس پر بلاوجہ ایسی اداسی طاری ہوجاتی ہے جیسی کسی پردیس میں رہنے والے پر ہوتی ہے چاہے وہ بیشک اپنے گھر میں اپنے قریبی خونی  رشتے داروں کے پاس ہی کیوں نا بیٹھا ہوں۔ 

نمبر پانچ زمین پر رہنے والی تمام مخلوقات کا ٹمپریچر آٹومیٹک طریقے سے ہر سیکنڈ بعد ریگولیٹ ہوتا رہتا ہے یعنی اگر سخت اور تیز دھوپ ھے تو ان کے جسم کا درجہ حرارت خود کار طریقے سے ریگولیٹ ہو جائے گا، جبکہ اسی وقت اگر بادل آ جاتے ہیں تو ان کے جسم کا ٹمپریچر سائے کے مطابق ہو جائے گا جبکہ انسان کا ایسا کوئی سسٹم نہیں بلکہ انسان بدلتے موسم اور ماحول کے ساتھ بیمار ھونے لگ جائے گا۔ موسمی بخار کا لفظ صرف انسانوں میں ھے۔ 

نمبر چھ ؛انسان اس سیارے پر پائے جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف ہے ۔ اسکا ڈی این اے اور جینز کی تعداد اس سیارہ زمین پہ جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف اور بہت زیادہ ہے۔ 

نمبر سات: زمین کے اصل رہائشی (جانوروں) کو اپنی غذا حاصل کرنا اور اسے کھانا مشکل نہیں، وہ ہر غذا ڈائریکٹ کھاتے ہیں، جبکہ انسان کو اپنی غذا کے چند لقمے حاصل کرنے کیلیئے ہزاروں جتن کرنا پڑتے ہیں، پہلے چیزوں کو پکا کر نرم کرنا پڑتا ھے پھر اس کے معدہ اور جسم کے مطابق وہ غذا استعمال کے قابل ھوتی ھے، اس سے بھی ظاہر ھوتا ھے کہ انسان زمین کا رہنے والا نہیں ھے ۔ جب یہ اپنے اصل سیارے پر تھا تو وہاں اسے کھانا پکانے کا جھنجٹ نہیں اٹھانا پڑتا تھا بلکہ ہر چیز کو ڈائریکٹ غذا کیلیئے استعمال کرتا تھا۔
مزید یہ اکیلا دو پاؤں پر چلنے والا ھے جو اس کے یہاں پر ایلین ھونے کی نشانی ھے۔

نمبر آٹھ: انسان کو زمین پر رہنے کیلیے بہت نرم و گداز بستر کی ضرورت ھوتی ھے جبکہ زمین کے اصل باسیوں یعنی جانوروں کو اس طرح نرم بستر کی ضرورت نہیں ھوتی۔ یہ اس چیز کی علامت ھے کہ انسان کے اصل سیارے پر سونے اور آرام کرنے کی جگہ انتہائی نرم و نازک تھی جو اس کے جسم کی نازکی کے مطابق تھی ۔ 

نمبر نو: انسان زمین کے سب باسیوں سے بالکل الگ ھے لہذا یہ یہاں پر کسی بھی جانور (بندر یا چمپینزی وغیرہ) کی ارتقائی شکل نہیں ھے بلکہ اسے کسی اور سیارے سے زمین پر کوئی اور مخلوق لا کر پھینک گئی ھے ۔

انسان کو جس اصل سیارے پر تخلیق کیا گیا تھا وہاں زمین جیسا گندا ماحول نہیں تھا، اس کی نرم و نازک جلد جو زمین کے سورج کی دھوپ میں جھلس کر سیاہ ہوجاتی ہے اس کے پیدائشی سیارے کے مطابق بالکل مناسب بنائی گئی تھی ۔ یہ اتنا نازک مزاج تھا کہ زمین پر آنے کے بعد بھی اپنی نازک مزاجی کے مطابق ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں رھتا ھے۔جس طرح اسے اپنے سیارے پر آرام دہ اور پرتعیش بستر پر سونے کی عادت تھی وہ زمین پر آنے کے بعد بھی اسی کے لئے اب بھی کوشش کرتا ھے کہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ زندگی گزار سکوں۔ جیسے خوبصورت قیمتی اور مضبوط محلات مکانات اسے وہاں اس کے ماں باپ کو میسر تھے وہ اب بھی انہی جیسے بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ جبکہ باقی سب جانور اور مخلوقات اس سے بے نیاز ہیں۔ یہاں زمین کی مخلوقات عقل سے عاری اور تھرڈ کلاس زندگی کی عادی ہیں جن کو نہ اچھا سوچنے کی توفیق ہے نہ اچھا رہنے کی اور نہ ہی امن سکون سے رھنے کی۔ انسان ان مخلوقات کو دیکھ دیکھ کر خونخوار ہوگیا۔ جبکہ اس کی اصلیت محبت فنون لطیفہ اور امن و سکون کی زندگی تھی ۔۔یہ ایک ایسا قیدی ہے جسے سزا کے طور پر تھرڈ کلاس سیارے پر بھیج دیا گیا تاکہ اپنی سزا کا دورانیہ گزار کر واپس آ جائے ۔ڈاکٹر ایلیس کا کہنا ہے کہ انسان کی عقل و شعور اور ترقی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ایلین کے والدین کو اپنے سیارے سے زمین پر آئے ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا ، ابھی کچھ ہزار سال ہی گزرے ہیں یہ ابھی اپنی زندگی کو اپنے پرانے سیارے کی طرح لگژری بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہاہے ، کبھی گاڑیاں ایجاد کرتا ہے  ، کبھی موبائل فون اگر اسے آئے ہوئے چند لاکھ بھی گزرے ہوتے تو یہ جو آج ایجادات نظر آ رہی ہیں یہ ہزاروں سال پہلے وجود میں آ چکی ہوتیں ، کیونکہ میں اور تم اتنے گئے گزرے نہیں کہ لاکھوں سال تک جانوروں کی طرح بیچارگی اور ترس کی زندگی گزارتے رہتے۔    

ڈاکٹر ایلیس سِلور کی کتاب میں اس حوالے سے بہت کچھ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے دلائل کو ابھی تک کوئی جھوٹا نہیں ثابت کر سکا۔۔ 

میں اس کے سائنسی دلائل اور مفرو ضوں پر غور کر رہا تھا۔۔ یہ کہانی ایک سائنسدان بیان کر رہا ھے یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقی داستان ہے جسے انسانوں کی ہر الہامی کتاب میں بالکل اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ میں اس پر اس لئے تفصیل نہیں لکھوں گا کیونکہ آپ سبھی اپنے باپ آدم ؑ اور حوا ؑ کے قصے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔۔ سائنس اللہ کی طرف چل پڑی ہے ۔۔ سائنسدان وہ سب کہنے پر مجبور ھوگئے ہیں جو انبیاء کرام اپنی نسلوں کو بتاتے رہے تھے ۔ میں نے نسل انسانی پر لکھنا شروع کیا تھا۔ اب اس تحریر کے بعد میں اس سلسلے کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکوں گا۔۔ 

ارتقاء کے نظریات کا جنازہ اٹھ چکا ہے ۔۔ اب انسانوں کی سوچ کی سمت درست ہو رہی ھے ۔۔ یہ سیارہ ہمارا نہین ہے ۔یہ میں نہیں کہتا بلکہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیشمار بار بتا دیا تھا۔ اللہ پاک نے اپنی عظیم کتاب قران حکیم میں بھی بار بار لاتعداد مرتبہ یہی بتا دیا کہ اے انسانوں یہ دنیا کی زندگی تمہاری آزمائش  کی جگہ ہے ۔ جہاں سے تم کو تمہارے اعمال کے مطابق سزا و جزا ملے گی ۔

Tuesday, January 12, 2021

كائنات ‏كى ‏سچی ‏کتاب۔

قرآن میں لوھے کے متعلق پیشن گوئیاں اور قرآن کا معجزہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائنسدانوں کا کہنا ھے کہ لوہا اس زمین اور نظام شمسی کا حصہ نہیں ھے۔ کیونکہ لوھے کے پیدا ہونے کے لئے ایک خاص درجہ حرارت کی ضرورت ھوتی ھے جو ہمارے نظام شمسی کے اندر بھی موجود نہیں۔ لوہا صرف سوپر نووا supernova کی صورت میں ھی بن سکتا ھے۔ یعنی جب کوئی سورج سے کئی گنا بڑا ستارہ پھٹ جائے اور اس کے اندر سے پھیلنے والا مادہ جب شہاب ثاقب meteorite کی شکل اختیار کرکے کسی سیارے پر گر جائے جیسا کے ھماری زمین کے ساتھ ھوا۔
سائنسدان کہتے ہیں کہ ھماری زمین پر بھی لوھا اسی طرح آیا۔ اربوں سالوں پہلے اسی طرح شہاب ثاقب meteorites اس دھرتی پر گرے تھے جن کے اندر لوھا موجود تھا۔

اللہ سبحان وتعالی نے یہی بات قرآن میں بیان فرمائی ہے، 1400 سال پہلے اس بات کا وجود تک بھی نہیں تھا کہ لوھا کیسے اور کہاں سے آیا؟

عرب کے صحراؤں میں تو لوھے کا استعمال بھی صرف تلوار اور ڈھال کے لئے ھوتا تھا۔

قرآن کی 57 ویں سورة کا نام الحدید ھے جس کا مطلب لوھا ھے۔ لوھے کے نام پر پوری سورة موجود ھے اور اسی سورة کی آیت میں اللہ فرماتا ھے کہ: 

"اور ہم نے لوھے کو اتارا، اس میں سخت قوت اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں۔” 

(سورة الحدید، آیت نمبر 25) 

سبحان اللہ 

قرآن میں موجود یہ سائنسی حقائق اس بات کی دلیل ھے کہ یہ رب کا سچا کلام ھے۔ جو اس آخری پیغمبر پر نازل ھوا جو اُمی کہلاتے تھے۔

سورہ حدید آیت 4

﴿۴﴾ وھی ھے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ جو چیز زمین میں داخل ھوتی اور جو اس سے نکلتی ھے اور جو آسمان سے اُترتی اور جو اس کی طرف چڑھتی ھے سب اس کو معلوم ھے۔ اور تم جہاں کہیں ھو وہ تمہارے ساتھ ھے۔ اور جو کچھ تم کرتے ھو خدا اس کو دیکھ رھا ھے۔

یعنی اللہ جانتا ھے جو کچھ زمین میں داخل ھوتی ھے اور جو اس سے نکلتی ھے۔ 

اس سے بھی زیادہ حیران کر دینے والی بات یہ ھے کہ لوہا زمین کے بالکل درمیان میں ھے۔ اور  لوھے کی بدولت مقناطیسی لہریں زمین کے گرد پیدا ہوتی ہیں جس سے زمین پر سورج کی الٹرا ریز اثر انداز نہیں ہو سکتی اور یہ وائرلیس کمیونیکیشن میں بھی مدد فراہم کرتی ھے۔

اب حیران کرنے والی بات یہ ھے کہ قرآن میں 114 سورتیں ہیں اور سورہ الحدید کا نمبر 57 ھے یعنی سورت حدید عین قرآن کے بیچ میں ھے۔ اور لوہا اسی طرح زمین کے درمیان ھے۔ یعنی اللہ نے اس سورہ کی ترتیب بھی اسی حساب سے رکھی جو کہ ایک معجزے سے کم نہیں۔

یہ بات حقیقت ھے کہ لوھے کہ بنا زمین پر زندگی تقریبا نا ممکن تھی۔ لوھا ہیموگلبن کی صورت میں ھمارے خون میں موجود ھے۔ جو کہ خون میں آکسیجن کو پورے جسم پہنچانے کام کرتا ھے۔

عربی زبان کے ٢٨ حروف ہیں اور ھر حرف سے کوئی عدد منسوب ھے.حروف کو  مختلف ترتیب سے لکھا جاتا ھے.
سب سے زیادہ عام طریقہ درج ذیل ھے۔

 ا         ب       ج          د        ہ        و        ز       ح      ط  
1         2        3         4        5        6       7       8       9
ی       ک        ل         م         ن       س       ع     ف      ص 
10     20      30        40       50      60     70    80     90
ق       ر        ش        ت        ث        خ       ذ     ض       ظ
100  200    300      400     500    600   700  800    900
غ 
1000

ا کے لئے 1 ب کے لئے 2 کا عدد ھے ج کے لئے 3 اور د کے لئے 4

اسی طرح الحدید میں ا ل ح د ی د الفاظ ہیں۔

 اسکے ابجد الفاظ درج زیل ہیں۔
1 + 30 + 8 + 4 + 10 + 4 = 57

الحدید سورت کا نمبر بھی 57 ھے۔ 

اب آتے ہیں لفظ حدید کی طرف۔ حرف حدید میں چار الفاظ ہیں ح د ی د۔ اسکا ابجد نمبر ھے۔
8+ 4 + 10 + 4 = 26

اب آپ سوچیں گے کہ اب 26 کیا چیز ھے؟؟؟

جی جناب یہ لوھے کا ایٹومک  نمبر ھے۔ 
Atomic number of iron is 26

سورہ حدید میں رکوع کی تعداد 4 ھے جبکہ آئرن کے آئسوٹوپس کی تعداد بھی 4 ھے۔

 ھماری زمین میں سب سے زیادہ لوھا زمین کی سب سے اندرونی تہہ (inner core) میں پایا جاتا ہے.  Inner core 80% لوہے اور 20% نکِل پر مشتمل ھے. زمین کی اس تہہ یعنی inner core کی پیمائش(موٹائی) 2475 کلومیٹر ھے۔ جبکہ سورہ حدید میں حروف کی تعداد بھی 2475 بنتی ھے.

 سورہ حدید قران مجید کی 57 ویں سورت ھے جبکہ سائنسدانوں کے مطابق inner core کا درجہ حرارت بھی  5700 کیلون یعنی5427 ڈگری سنٹی گریڈ ھے.  جبکہ آئرن کے ایک آئسوٹوپ کا ماس نمبر بھی 57 ھے.

ایک ستارا کا ایندھن ہائیڈروجن گیس ہوتی ھے اور گریوٹی کی وجہ سے ستارا کے رکز میں فیوزن ری ایکشن شروع ھوتا ھے اور ہائیڈروجن ایٹم دوسرے ایٹم سے ملکر ہیلیئم بناتی ھے جب کسی ستارا کہ تمام ہائیڈروجن ختم ھو جاتی ھے تو اس کا ایندھن ہیلیئم ھوتا ھے اور ہیلیئم کے آئیٹم فیوزن ری ایکشن سے نائیٹروجن اور پھر آکسیجن بناتے پھر اور آخر میں لوھا بنتا ھے جب کسی ستارا میں لوھا پیدا ھونا شروع ھو جائے تو وہ ستارا مر جاتا ھے اور بلاسٹ کر کے لوھا کائنات میں چھوڑ دیتا ھے۔
زمین پر موجود لوھا کس مرے ہوئے ستارے سے آیا۔ جس کو قرآن نے 1400 سال سے بھی پہلے بیان کر دیا۔

اسلام اور قرآن کی حقانیت جدید سائنس دن بدن عیاں کر رھی ھے مگر پھر بھی ھم اللہ کو راضی کرنے کے بجائے دنیا کے پیچھے پڑے ہیں۔

بیشک قرآن حکیم ایک زندہ و جاوید معجزہ ھے💖


اے ‏امت ‏مسلمہ ‏ذرا ‏بیدار ‏ہوجا۔۔۔

یہ ہوتا ہے انصاف۔۔
ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران اسٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹا۔

جج نے فرد ِ جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا "تم نے واقعی کچھ چرایا تھا؟"

"بریڈ اور پنیر کا پیکٹ" لڑکے نے اعتراف کرلیا۔

"کیوں؟"

"مجھے ضرورت تھی" لڑکے نے مختصر جواب دیا۔

"خرید لیتے"

"پیسے نہیں تھے"

"گھر والوں سے لے لیتے"

"گھر پر صرف ماں ہے۔ بیمار اور بے روزگار۔ بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔"

"تم کچھ کام نہیں کرتے؟"

"کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔"

"تم کسی سے مدد مانگ لیتے"

"صبح سے مانگ رہا تھا۔ کسی نے ہیلپ نہیں کی"

جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔

"چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ عدالت میں موجود ہر شخص، مجھ سمیت۔ اس چوری کا مجرم ہے۔ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا۔" یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے۔

"اس کے علاوہ میں اسٹور انتظامیہ پر 1000 ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو کورٹ اسٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔"

فیصلے کے آخری ریمارک یہ تھے: "اسٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے۔"

فیصلہ سننے کے بعد حاضرین تو اشک بار تھے ہی، اس لڑکے کی تو گویا ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ اور وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔

("کفر" کے معاشرے ایسے ہی نہیں پھل پھول رہے۔ اپنے شہریوں کو انصاف ہی نہیں عدل بھی فراہم کرتے ہیں)

عشق نبی صلی االلہ علیہ وسلم ‏ہمیں ‏بھی ‏عطاء ‏ہو ‏اے ‏میرے ‏پروردگار

یہ رومال مبارک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جبّۂ مبارک سے ہزاروں  سال تک مس (یعنی ملا ہوا) رہا ہے ۔ یہ دولت عثمانیہ کا عطیہ ہے ۔ ترکی کے سلاطین ہر سال اس جبّۂ مبارک کی زیارت کا شرف حاصل کیا کرتے تھے ، جو ترکی کے خزانے میں آج بھی محفوظ ہے ۔ جنگ بَلقان کے زمانے میں دارالعلوم دیوبند کی مالی امداد سے متاثر ہوکر ۱۳۳۲ھ مطابق ۱۹۱۳ء میں سلطان المعظم ترکی نے دارالعلوم کو یہ تبرک عطا فرمایا ۔
(روداد دارالعلوم دیوبند : ۱۳۳۲ھ ص ۲۹)

Monday, January 11, 2021

WhatsApp New privacy policies

کچھ دن پہلے واٹس ایپ نے اپنی پالیسی اپ ڈیٹ کی جس پر سوشل میڈیا اور ٹی وغیرہ میں ادھم مچا ہوا ہے... جنہیں اس کی الف ب کی بھی خبر نہیں انہیں بھی ٹینشن ہو رہی ہے....🙄
تو بھائیو اور بھائیوں کی بہنو!  عرض ہے کہ آپ کا سارا ڈیٹا تو پہلے سے ہی ان کے پاس ہے اور آپ کے موبائل میں موجود تصاویر, ویڈیوز آڈیوز(یعنی گیلری) فائلز تک ان کی رسائی یے..  آپکی وڈیو, آڈیو کالز کا access آپ پہلے ہی انہیں دے چکے ہیں..  پسورڈز آپ کے گوگل میں save ہیں..  تو بھائی بچا کیا ہوا تھا جس کی اب ٹینشن ہے؟  ایویں ای؟؟🧐

گوگل آپکو اتنا جانتا ہے جتنا آپکی بیوی بھی آپکو نہیں جانتی... 🥴

فیس بک نے 19 ارب ڈالر میں واٹس ایپ اس لئے تو نہیں خریدا کہ مفت میں لوگوں کو سہولتیں فراہم کرکے ڈھیر ساری نیکیاں کمائے...  اس نے پیسے کمانے ہیں پیسے...

آپ جب بھی کوئی ایپلی کیشن انسٹال کرتے ہیں تو "agree "پر کلک کرنا پڑتا ہے.. Agree کے آپشن پر کلک کرتے سمے کبھی پڑھ لیجیے گا وہ کس کس چیز تک رسائی کی اجازت مانگ رہے ہیں...  جس پر آپ بخوشی کلک کرکے اپنے موبائل کا تقریباً 100 فیصد access انہیں دے دیتے ہیں.. 

تو بھائی ایپلی کیشن چاہے واٹس ایپ ہو, ٹیلی گرام یا کوئی اور سب ہی آپ کا ڈیٹا لیتے ہیں اسے مختلف مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں اور حسب ضرورت آگے بیچتے بھی ہیں.. 

اگر آپ اس سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ کو چاہیے نوکیا 2100 استعمال کریں..  بہت اچھا موبائل ہے میں نے کافی عرصہ استعمال کیا ہے...

Hero of ummat e muslimah

ایسے لوگ ھوتے ھیں دین کی خدمت کرنے والے❤️❤️❤️❤️

سڑک کنارے گھنٹوں کھڑے رہ کر غیر مسلموں میں اسلامی پمفلٹ تقسیم کرنے والے اس سفید ریش سفید پوشاک بزرگ کا نام شیخ نعمت اللہ خلیل ہے.

ان کا اصل تعلق ترکی سے ہے،یہ عہد سلطان عبدالحمید کے علماء کرام کے شاگردوں میں سے ہے.

انہوں نے اپنی زندگی کے 15 سال مدینہ منورہ میں اور 15 سال مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں امامت کرتے گزارے.

یہ عربی،ترکی،انگریزی،اردو اور جاپانی سمیت کئی زبانوں پر مہارت رکھتے ہیں.

انہوں نے دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں 50 سے زائد ملکوں کا سفر کیا اور ہزاروں لوگ ان کے ہاتھ مسلمان ہوئے.

دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں انہوں نے جاپان میں 14 سال قیام کیا،انہوں نے جب دعوت کا کام شروع کیا جاپان میں 3 مسجدیں تھی 14 سال بعد ان کے ہاتھ سے 200 مسجدیں تعمیر و آباد ہوچکی تھیں.

1981 میں انہوں نے قرآن مجید کے 20000 نسخے چائنہ کے مسلمانوں تک چائنہ میں خود جا کر پہنچا آئے.

یہ تین بار دعوت کے سلسلے میں سائبیریا گئے جہاں درجہ حرارت منفی 40 ڈگری تھا.

نو مسلم مرد و خواتین کے لئے یہ اسلامی نام رکھتے ہیں ایک بار جاپان میں مختلف تعلیمی اداروں کے 100 اساتذہ جن میں مرد و خواتین تھے ان کے ہاتھ مسلمان ہوئے اب ہر ایک کو کھڑا کرکے نام آلاٹ کرنا لمبا مرحلہ تھا چنانچہ شیخ نے اعلان کر دیا کہ تم میں جو مرد ہیں ان کا اسلامی نام محمد اور خواتین کا نام فاطمہ ہوگا.

شیخ کی سب سے بڑی شہرت شراب خانوں میں جا کر دعوت دین دینا ہے،ان کے ہاتھوں شراب خانوں سے تائب ہو کر دین کی طرف آنے والوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے.

ایک بار شیخ جرمنی کے شہر برلن کی مسجد میں درس دینے کے بعد پوچھ بیٹھے کہ باقی مسلمان مسجد کیوں نہیں آتے ہیں کسی نے کہا شیخ صاحب باقی میخانے میں پائے جاتے ہیں،یہ ایک گائیڈ لیکر شراب خانے پہنچے کچھ دیر بعد 40 مسلم نوجوانوں کو اپنے ساتھ لیکر آئے.

ایک بار شیخ مسجد نبوی شریف میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ترکی نژاد ایک خوبرو جرمن نوجوان شیخ کے پاس آئے اور سلام کیا پھر پوچھا شیخ صاحب کیا آپ نے مجھے پہچان لیا؟شیخ صاحب کے انکار پر کہا میں برلن کے میخانے کا آخری شرابی ہوں اس دن آپ کی دعوت کے بعد میں نے نہ صرف شراب چھوڑ دی بلکہ کچھ عرصہ بعد اس میخانے کو بھی خرید کر شراب کا سلسلہ ہی ختم کردیا اب میں اپنی بیگم کے ساتھ عمرے پر آیا ہوں.

شیخ نعمت اللہ خلیل ایک ایسا داعی جس اکیلے نے کئی جماعتوں سے بڑھ کر دین کا کام کیا.

Sunday, January 10, 2021

امت ‏مسلمہ ‏کے ‏لئے ‏ایک ‏عظیم ‏فتنہ۔

اس بندے کا نام احمد عیسی ہے ۔ اصل میں پاکستان کے صوبۂ گجرات کے کسی گاؤں رہنے والا ہے اور فی الحال ایک یہودی عورت سے شادی کرکے جرمنی میں مقیم ہے۔
چند برس پہلے اس ملعون نے نبوت کا دعوی کیا تھا ۔ اور سوشل میڈیا پر اپنی دعوت کے کام میں سرگرم ہوگیا۔ یوٹیوب پر شروع سے ہی یہ ایک چینل پر بڑا فعال ہے۔ جس سے یہ قرآن کی لفظی و معنوی تحریفات پر مبنی اپنے ویڈیوز نشر کرتا ہے۔ اس ملعون کا کہنا ہے کہ آدھے سے زیادہ قرآن میں اس کا تذکرہ ہے، قرآن پاک میں دو عیسیٰ کا ذکر ہے، ایک عیسیٰ ابن مریم جو گذر چکے اور ایک میرا ، ساتھ ہی ساتھ یہ نبی آخر الزماں محمد ﷺ کی نبوت کا منکر بھی ہے، مزید یہ شخص اپنے آپ کو اللہ بھی کہتا ہے۔ اس نے اپنی ایک کتاب بھی لانچ کی ہے، جس پر یہ ایمان لانے کی یہ تبلیغ بھی کرتا ہے۔ (مزید تفصیلات یوٹیوب پر مل جائیں گی)
اس وقت یوٹیوب پر اس کی کئی چینلز اور فیس بک پر اس کے مختلف ناموں سے پیج ہیں۔ جب یہ نیا نیا سوشل میڈیا پر آیا تھا تو بہت سے علماء نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز کے ذریعے اس فتنے سے عوام کو آگاہ کیا تھا ۔ اس وقت یوٹیوب پر Naba7 کے نام سے اس کا ایک چینل چلتا تھا ۔
بہر حال وقت گذرتا گیا ۔ چند دنوں قبل فیس بک پر میں اپنے کچھ دوستوں کی پروفائلز دیکھ کر چونک گیا کہ ان کو کسی نے اس (احمد عیسی) کی پوسٹوں میں ٹیگ کیا ہے۔ لیکن بدگمانی سے بچنے کے لیے میں نے اس معاملے کی تہہ تک جانے کا فیصلہ کیا۔ اس لئے میں نے پوسٹ شیئر کر کے ٹیگ کرنے والوں کی آئی ڈیئز کی چھان پٹک شروع کر دی ۔ آئی ڈئیز کی چھان بین کرتے ہوئے میں اس کے بنائے ہوئے نئے پیجز تک پہنچ گیا ۔ دیکھا کہ اس ملعون نے اب کئی دوسرے attractive ( دل کش و جاذب ) ناموں سے فیس بک پر نئے پیجز بنائے ہیں، جن پر یہ اپنے ویڈیوز وغیرہ روزانہ پوسٹ کرتا ہے۔ اور یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اس نے اب اپنے نام کے ساتھ ایک لفظ بڑھایا ہے اور "احمد عیسی کرشنا" کر دیا ہے۔ (شاید ہندو طبقے کی توجہ پانے کے لیے اس نے ایسا کیا ہو )
اس کے پیجز پر جا کر یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمارے کئی معصوم ذہن کے جوان اس کی پوسٹوں کو لائک اور شئیر کرتے ہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ کئی مدارس کے طلباء کو بھی اس کی پوسٹیں لائک و شئیر کرتے دیکھا۔
فیس بک پر نوجوانوں کے ذہنوں کو متاثر کرنے کے لئے اس نے عجیب عجیب حربے اختیار کئے ہوئے ہیں۔
پہلے تو اس نے یوٹیوب پر چینل بنایا تھا ۔ لیکن اب معلوم ہوا کہ اس نے کئی دوسرے ناموں سے بھی چیلنز بنائے ہیں اور خاموشی سے اپنی دعوت میں سرگرم ہے ۔ ان چیلنجز اور پیجز سے یہ منظم طریقے سے اعلی کوالٹی کے ویڈیوز کی شارٹ کلپس بنا کر پوسٹ کرتا ہے ۔ فیس بک پر ہی اس نے کئی پیجز بنا رکھے ہیں ۔ ان پر تقریبا روزانہ اس کی ویڈیو اور تحریریں آتی ہیں۔ کئی نوجوان اس کی پوسٹوں کو شئیر بھی کرتے ہیں ۔ ایک عجیب چیز یہ بھی دیکھی کہ پوسٹ شیئر کرنے والوں میں اکثر مسلم لڑکیاں ہیں (وہ واقعی مسلم لڑکیوں کی آئی ڈیز ہیں یا ان کے پیچھے کوئی اور ہے، اس کا کوئی علم نہیں، البتہ ناچیز کے اندازے کے مطابق اکثر آئی ڈیز مشکوک ہیں) ، ان مسلم لڑکیوں کی فرینڈ لسٹ میں ہمارے کئی مدارس کے طلباء بھی ہیں۔
جب وہ لڑکیاں "احمد عیسی" کے ان پیجز کی پوسٹیں شئیر کرتیں ہیں تو ساتھ میں ان مدارس کے طلباء اور نوجوانون کو ٹیگ کر دیتی ہیں۔ افسوس تو اس پر ہے کہ وہ نوجوان طلباء ان پوسٹوں پر لائک بھی کر دیتے ہیں۔ مجھے سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب میں نے اس بات کو نوٹ کیا کہ میری فرینڈ لسٹ میں موجود کچھ دوست بھی جانے انجانے میں ایسا کر رہے ہیں بلکہ میں ان دوستوں کی پروفائلز کے ذریعے ہی اس سرگرمی تک پہنچا ۔ لیکن میری کم ہمتی ہی سمجھیے کہ مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آرہا ہے کہ ان دوستوں کو اس سے کیسے آگاہ کروں 😢
یہ معلوم نہیں مسلم لڑکیوں کے نام سے ان پروفائلز کے پیچھے کون ہے؟ کیا وہ واقعی متاثر شدہ مسلم لڑکیاں ہیں یا نوجوانوں کو اپنے جال میں پھسانے کے لئے جعلی آئی ڈیز بنائی گئی ہیں۔ 
میں پوسٹ کے آخر میں ان پیجز کی لنک بھی دے رہا ہوں۔ تاکہ آپ خود پوسٹوں کو دیکھیں کہ ان پر اکثر کن کے لائیک اور کمنٹ ہیں۔ 

بہر حال! مدارس کے طلباء و علماء اس فتنے کو سمجھیں ، سوشل میڈیا کی طاقت کو تسلیم کریں۔ اپنے اپنے آئی ٹی سیل ، سٹوڈیوز اور پروڈکشن ہاؤس بنا کر ان کو منظم کریں۔ ان سے ایسا مواد نشر کریں جس کو نئی نسل کی نئی ذہنیت قبول کرے ۔ لوگوں کی نفسیات کو سمجھیں اور انہیں ان کے ذہنی معیار کو سامنے رکھ کر دین پیش کریں۔
آج کل عوام علماء سے اس وجہ سے بھی دور ہو رہی ہے کہ وہ بے انتہاء شکوک و شبہات کے شکار ہیں ۔ مولنا زاہد الراشدی صاحب لکھتے ہیں : 
‏ایک طرف کفر اپنے فلسفہ و منطق کے ہتھیاروں اور اذہان و قلوب تک رسائی کیلئے ابلاغ کے تمام تر ذرائع سے لیس ہے، دوسری طرف ہم علماء کرام دین کے مسائل صرف فتویٰ اور حکم کی زبان میں سمجھانے کے درپے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ ناواقف حضرات کے ذہنوں میں بے شمار شبہات قطار باندھے خاموش کھڑے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیس پیجوں کی لنکس : 
1
https://www.facebook.com/naba7sc/

2
https://www.facebook.com/alsirat.almustaqim1/

3
https://www.facebook.com/Talashehaqkasafar7/

4
https://www.facebook.com/zalikalkitab007/

5
https://www.facebook.com/naba7tv007/

6
https://www.facebook.com/naba7daawat/

Very important post

A British man came to Sheikh and asked:
Why is it not permissible in Islam for women to shake hands with a man?
The Sheikh said:
Can you shake hands with Queen Elizabeth?
British man said:
Of course no, there are only certain people who can shake hands with Queen Elizabeth.
Sheikh replied:
Our women are queens and queens do not shake hands with strange men.
Then the British man asked the Sheikh:
Why do your girls cover up their body and hair?
The Sheikh smiled and got two sweets, he opened the first one and kept the other one closed. He threw them both on the dusty floor and asked the British:
If I ask you to take one of the sweets which one will you choose?
The British replied:
The covered one.
The Sheikh said:
That's how we treat and see our women 💜

‎Read ‏it ‎carefully ‎once...a ‎post ‎for ‎science ‎students

Homo Heidelbergensis, an Outcast
(Reality of Darwinian Monkey Business)
------------------------------------------------

پچھلے چند سالوں میں جو تحقیقات جدید سائنس کے ذریعے سامنے آئی ہیں وہ انسانی ارتقاء کو تضادات اور اختلافات کا مجموعہ بنا چکی ہیں اور ڈارونین میڈیا ہمیشہ کی طرح ایسی تحقیقات کو غیر اہم بنا کر پیش کرتا ہے یا مختلف رنگ سے رنگین کر کے پیش کرتا ہے۔ جبکہ سائنسی پیپرز میں پیچیدہ ٹرمینالوجی سے بات کی جاتی ہے جو عوام سمجھ نہیں سکتی۔ چاہے اسٹرالوپتھکس ہو، ہومو ہیبیلس ہو، ہومو ایرکٹس ہو یا ہومو ہائیڈلبرگینسیس ہو تمام تر انسانی سپیشیز کہلائے جانے والے اور انسانوں سے منسلک کیے گئے یہ فاسلز علاقائی (Regional) لحاظ سے اور اپنی فاسل عمر (Fossil Dating) کے لحاظ سے انسانی ارتقاء کے ماڈل پر سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ انسانی ارتقاء درجہ بہ درجہ بندر نما جاندار سے انسان بننے کے ارتقائی منازل طے کرتا ہوا دیکھایا، بتایا اور پڑھایا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں انسانی ارتقاء کے رائج ماڈل کی سائنسی پہلو سے معقولیت زمین بوس ہوچکی ہے۔ مثال کے طور پہ جن فاسل سپیشیز کو لاکھوں سال پرانا ارتقائی جد مانا جاتا تھا وہ بھی انسانوں کے ساتھ موجود تھیں اور جن سپیشیز کو بندر نما جسمانی اور شکلی خصوصیات کا حامل قرار دیا جاتا تھا وہ بھی انسانوں کے ساتھ موجود تھیں۔
ہومو ہائڈلبرگینسیس (H.Heidelbergensis) نامی سپیشیز اس پوسٹ کا موضوع ہے۔ اس کو انسانی ارتقاء میں بنیادی حیثیت حاصل ہے کیونکہ اس کو تین مختلف انسانی نسلوں سیپیئن، نینڈرتھل اور ڈینی سوون کا ماضی میں پایا جانے والا جد (Ancestor) مانا جاتا ہے۔ ڈارونین تھیوری کے مطابق یہ بندر نما اسٹرالوپتھکس سے موجودہ انسانوں کے ارتقاء میں قریبی دور کی اہم درمیانی کڑی ہے۔ سو سال کی ارتقائی کہانیوں کے بعد حال ہی میں یہ ارتقائی بیانیہ بھی غلط ثابت ہوچکا ہے۔

پیرگراف 1:
 آج سے تقریباً ایک سو سال پہلے 1921 میں افریقی ملک زامبیا (Zambia) میں کان کنی کے دوران ایک اچھی حالت میں محفوظ فاسل کھوپڑی دریافت ہوئی۔ اس فاسل کو "Kabwe-1" کا نام دیا گیا. اس فاسل کھوپڑی کا دماغی سائز 1300 کیوبک سینٹی میٹر تھا جو تقریباً موجودہ انسانوں کے دماغی سائز جتنا بنتا ہے۔ یہ پیچیدہ قسم کے اوزار اور کلہاڑی وغیرہ بنانے میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ اس کھوپڑی کی آنکھوں کے اوپر والی ہڈیوں میں ابھار(Supraorbital Torus) تھا۔ یہ فاسل کھوپڑی قدرے بیضوی تھی اور اس کے پچھلے حصے میں باہر کی طرف ابھار(Occipital Bun) تھا۔ اس طرح کی دیگر خصوصیات کی بنا پہ ارتقائی سائنسدانوں نے فوراً اس فاسل کھوپڑی کو آج سے 5 لاکھ سال پہلے پایا جانے والا ارتقائی مشترکہ جد قرار دے دیا جس سے نینڈرتھل، ڈینی سون اور سیپیئن انسانی نسلوں کا ارتقاء ہوا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جس علاقے میں کان کنی کے دوران یہ فاسل دریافت ہوا اس کی آرکیولاجک ڈیٹنگ ممکن نہیں ہو پائی کیونکہ وہ تہ کان کنی اور کھدائی کی وجہ سے ختم ہوگئی۔ اب یہاں سوال بنتا ہے کہ اگر ایسا تھا تو پھر یہ کس طرح پتہ چلا کہ یہ 5 لاکھ سال پرانا فاسل ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خالصتاً ارتقائی اندازوں اور ارتقائی قیاس آرائیوں پہ مبنی تھا کہ نہ صرف یہ فاسل 5 لاکھ سال پرانا ہے بلکہ تین انسانی نسلوں کا مشترکہ جد بھی ہے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے یہی بیانیہ عام تھا۔
"The cranium from Broken Hill (Kabwe) was recovered from cave deposits in 1921, during metal ore mining in what is now Zambia. It is one of the best-preserved skulls of a fossil hominin, and was initially designated as the type specimen of Homo rhodesiensis, but recently it has often been included in the taxon Homo heidelbergensis. However, the original site has since been completely quarried away, and—although the cranium is often estimated to be around 500 thousand years old. its unsystematic recovery impedes its accurate dating and placement in human evolution."
https://www.nature.com/articles/s41586-020-2165-4

 پیراگراف 2:
اس سال 2020 میں نیچر جریدے میں ایک سائنس پیپر پبلش ہوا جس میں اس اہم ترین فاسل کھوپڑی Kabwe-1 کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے فاسل ڈیٹنگ کے مراحل سے گزارا ہوگیا اور جو نتیجہ نکلا اس نے انسانی ارتقاء کا پورا ماڈل ہلا کر رکھ دیا۔ جو فاسل کھوپڑی 5 لاکھ سال پرانی کہی جاتی تھی اور ہومو سپیئن کا ارتقائی جد مانی جاتی تھی وہ حالیہ فاسل ڈیٹنگ کے مطابق تقریباً 3 لاکھ سال پرانی نکلی۔ یعنی ہومو ہائڈلبرگینسیس اور ہومو سیپیئن ایک ہی وقت میں موجود تھے کیونکہ ہومو سیپیئن کے بھی 3 لاکھ سال پرانے فاسلز موجود ہیں۔ یہ سائنسی تحقیق اس بیانیے کو ناممکن بنا دیتی ہے کہ موجودہ ہومو سیپیئن ہومو ہائڈلبرگینسیس سے لاکھوں سال کے ساختی ارتقاء سے وجود میں آئے۔ یہ انسانی ارتقاء کے رائج ماڈل کی بہت بڑی ناکامی ہے۔
"Here we carried out analyses directly on the skull and found a best age estimate of 299 ± 25 thousand years.........The age estimate also raises further questions about the mode of evolution of H. sapiens in Africa and whether H. heidelbergensis/H. rhodesiensiswas a direct ancestor of our species."
https://www.nature.com/articles/s41586-020-2165-4

پیراگراف 3:
اس فاسل کھوپڑی کی عمر پہ لگائے جانے والے اندازے اور قیاس آرائیاں وقت کے ساتھ ساتھ کم ازکم تین دفعہ تبدیلی کے مراحل سے بھی گزری ہیں۔ مثال کے طور پہ 1970 کے دوران یہ مانا جاتا تھا کہ Kabwe-1 فاسل کھوپڑی 30 ہزار سال پرانی ہے۔ پھر اگلی دہائیوں میں یہ کہانی سامنے ائی کہ  Kabwe-1 فاسل کھوپڑی تو 5 لاکھ سال پرانی ہے اور اب تک یہی کہانی مشہور تھی۔ اس سال اس کی عمر کا اندازہ پھر لگایا گیا ہے اور پتہ چلا کہ یہ اصل میں 3 لاکھ سال پرانی ہے۔ ارتقائی سائنس میں فاسلز کی عمر کتنے مستند طریقے سے نکالی جاتی ہے اس کا اندازہ یہیں سے لگا لیں۔
"It was the first discovered remains of premodern Homo in Africa and until the early 1970s was considered to be 30,000 to 40,000 years old—only one-tenth its true age."
https://www.britannica.com/topic/Kabwe-cranium

پیراگراف 4:
انسانی ارتقاء کے ماڈل میں جن فاسلز کو ابتدائی حیوانی سپیشیز قرار دیا جاتا ہے وہ اصل میں انسانوں کے ساتھ موجود تھیں۔ مثال کے طور پہ ہومو ایرکٹس (H.Erectuc) کو تقریباً بیس لاکھ سال پرانا ابتدائی حیوانی انسان مانا جاتا ہے جس سے ارتقاء کر کے موجودہ انسان وجود میں آئے۔ لیکن حالیہ سائنسی تحقیقات کے مطابق انڈونیشیا میں ہومو ایرکٹس کے صرف 1 لاکھ سال پرانے فاسلز دریافت ہوئے ہیں جبکہ ہومو سیپیئن 3 لاکھ سال پہلے فاسل ریکارڈ میں ظاہر ہوئے۔ یعنی موجودہ ہومو سیپیئن اور ہومو ایرکٹس ماضی میں ایک ہی وقت میں موجود رہے ہیں۔ یہ نہایت غیر متوقع شواہد ہیں جو انسانی ارتقاء کے ماڈل کے خلاف ہیں۔
اسی طرح ہومو نالیدی (H.Naledi) کے فاسلز پہ 2015 میں eLife جریدے میں ایک سائنسی پیپر پبلش ہوا اور ان فاسلز کو ایک نئی سپیشیز قرار دیا گیا جن کی ساخت بندر نما اسٹرالوپتھکس سے ملتی تھی۔ یہ بندر نما فاسلز جنوبی افریقہ میں ایک غار سے دریافت ہوئے تھے۔ جب فاسل ڈیٹنگ کے نتائج آئے تو غیر متوقع طور پہ ان کی عمر دو لاکھ اسّی ہزار سال قرار پائی۔ یعنی ہومو سیپیئن کے وقت میں یہ بندر نما سپیشیز بھی زندہ موجود تھی۔ اس طرح کی ساخت والی سپیشیز کو بہت پہلے ماضی میں ہونا چاہیے تھا نہ کہ اتنا کم عرصہ پہلے ہومو سیپیئن کے وقت میں موجود ہونا چاہیے تھا۔ انسانی ارتقاء کا ماڈل یہاں بھی ناکام ہے۔
ہومو فلور ایسیئنسیس (H.Floresiensis) نامی سپیشیز بھی صرف اٹھارہ ہزار سال پہلے انسانوں کے ساتھ موجود تھی۔ جبکہ اس کی ساخت میں ارتقائی سائنسدان کے مطابق ماضی کے بندر نما اسٹرالوپتھکس جیسی خصوصیات اور مماثلتیں تھیں۔ ڈارون پرست سائنسدان اس کو نئی سپیشیز مانتے ہیں جبکہ بہت سی سائنسی تحقیقات کے مطابق یہ سپیشیز موجودہ انسانوں کا ایک گروہ تھا جو جسمانی طور پہ معذور تھا۔ جس کی وجہ سے ان کی کھوپڑی اور جسمانی سٹرکچر عام انسانوں سے مختلف تھا۔ اس سپیشیز پہ تفصیلی معلومات کے لئے یہ پوسٹ پڑھیں۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=183989902907875&id=100038905981584
ہومو لوزونینسیس (H.Luzonensis) نامی سپیشیز کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ ان کی فاسل ڈیٹنگ کے مطابق یہ بھی پچاس ہزار سال پہلے ہومو سیپیئن کے ساتھ موجود تھے۔ 
ڈارونین تھیوری کا دعویٰ یہ تھا کہ ہومو ایرکٹس، ہومو ہائڈلبرگینسیس اور دیگر حیوانی اور بندر نما ساخت کے فاسلز صرف ماضی میں ہونے چاہیں کیونکہ ان سے ارتقاء کر کے موجودہ انسان وجود میں آئے۔ 
لیکن ایسا بالکل بھی نہیں!
انسانی ارتقاء کا پورا ماڈل تضادات اور اختلافات کا مجموعہ بن چکا ہے جو صرف معذرت خواہانہ کہانیوں پہ زندہ ہے۔
"The result suggests that later Middle Pleistocene Africa contained multiple contemporaneous hominin lineages (that is, Homo sapiens, H. heidelbergensis/H. rhodesiensis and Homo naledi), similar to Eurasia, where Homo neanderthalensis, the Denisovans, Homo floresiensis, Homo luzonensis and perhaps also Homo heidelbergensis and Homo erectus were found contemporaneously."
https://www.nature.com/articles/s41586-020-2165-4
 
ڈارونین اسٹیبلشمنٹ اتنی بڑی ناکامی کو بھی بڑے نرم اور مبہم انداز میں پیش کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حالیہ تحقیقات نسل در نسل چلنے والے ارتقائی ماڈل کو زمین بوس کر چکی ہیں۔ اس بیانیہ کے خلاف بہت سے سائنسی شواہد آ چکے ہیں جو کسی بھی طرح انسانی ارتقاء کے ماڈل کے حق میں نہیں ہیں۔ ہومو ہائڈلبرگینسیس کو ایک صدی تک ارتقائی اندازوں پہ زندہ رکھا گیا۔ اس کو انسانوں کا ماضی میں  پایا جانے والا حیوانی ساخت کا مشترکہ جد مانا جاتا تھا لیکن یہ بیانیہ بھی آخر کار غلط ثابت ہوگیا۔

--------------------------------------------------

*ایک انتہائی سبق آموز کہانی...!* 💔

*راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تو تکرار ہو گئی.....* تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گیا ، بوڑھے آدمی کا غصہ...