Sunday, January 10, 2021

امت ‏مسلمہ ‏کے ‏لئے ‏ایک ‏عظیم ‏فتنہ۔

اس بندے کا نام احمد عیسی ہے ۔ اصل میں پاکستان کے صوبۂ گجرات کے کسی گاؤں رہنے والا ہے اور فی الحال ایک یہودی عورت سے شادی کرکے جرمنی میں مقیم ہے۔
چند برس پہلے اس ملعون نے نبوت کا دعوی کیا تھا ۔ اور سوشل میڈیا پر اپنی دعوت کے کام میں سرگرم ہوگیا۔ یوٹیوب پر شروع سے ہی یہ ایک چینل پر بڑا فعال ہے۔ جس سے یہ قرآن کی لفظی و معنوی تحریفات پر مبنی اپنے ویڈیوز نشر کرتا ہے۔ اس ملعون کا کہنا ہے کہ آدھے سے زیادہ قرآن میں اس کا تذکرہ ہے، قرآن پاک میں دو عیسیٰ کا ذکر ہے، ایک عیسیٰ ابن مریم جو گذر چکے اور ایک میرا ، ساتھ ہی ساتھ یہ نبی آخر الزماں محمد ﷺ کی نبوت کا منکر بھی ہے، مزید یہ شخص اپنے آپ کو اللہ بھی کہتا ہے۔ اس نے اپنی ایک کتاب بھی لانچ کی ہے، جس پر یہ ایمان لانے کی یہ تبلیغ بھی کرتا ہے۔ (مزید تفصیلات یوٹیوب پر مل جائیں گی)
اس وقت یوٹیوب پر اس کی کئی چینلز اور فیس بک پر اس کے مختلف ناموں سے پیج ہیں۔ جب یہ نیا نیا سوشل میڈیا پر آیا تھا تو بہت سے علماء نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز کے ذریعے اس فتنے سے عوام کو آگاہ کیا تھا ۔ اس وقت یوٹیوب پر Naba7 کے نام سے اس کا ایک چینل چلتا تھا ۔
بہر حال وقت گذرتا گیا ۔ چند دنوں قبل فیس بک پر میں اپنے کچھ دوستوں کی پروفائلز دیکھ کر چونک گیا کہ ان کو کسی نے اس (احمد عیسی) کی پوسٹوں میں ٹیگ کیا ہے۔ لیکن بدگمانی سے بچنے کے لیے میں نے اس معاملے کی تہہ تک جانے کا فیصلہ کیا۔ اس لئے میں نے پوسٹ شیئر کر کے ٹیگ کرنے والوں کی آئی ڈیئز کی چھان پٹک شروع کر دی ۔ آئی ڈئیز کی چھان بین کرتے ہوئے میں اس کے بنائے ہوئے نئے پیجز تک پہنچ گیا ۔ دیکھا کہ اس ملعون نے اب کئی دوسرے attractive ( دل کش و جاذب ) ناموں سے فیس بک پر نئے پیجز بنائے ہیں، جن پر یہ اپنے ویڈیوز وغیرہ روزانہ پوسٹ کرتا ہے۔ اور یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اس نے اب اپنے نام کے ساتھ ایک لفظ بڑھایا ہے اور "احمد عیسی کرشنا" کر دیا ہے۔ (شاید ہندو طبقے کی توجہ پانے کے لیے اس نے ایسا کیا ہو )
اس کے پیجز پر جا کر یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمارے کئی معصوم ذہن کے جوان اس کی پوسٹوں کو لائک اور شئیر کرتے ہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ کئی مدارس کے طلباء کو بھی اس کی پوسٹیں لائک و شئیر کرتے دیکھا۔
فیس بک پر نوجوانوں کے ذہنوں کو متاثر کرنے کے لئے اس نے عجیب عجیب حربے اختیار کئے ہوئے ہیں۔
پہلے تو اس نے یوٹیوب پر چینل بنایا تھا ۔ لیکن اب معلوم ہوا کہ اس نے کئی دوسرے ناموں سے بھی چیلنز بنائے ہیں اور خاموشی سے اپنی دعوت میں سرگرم ہے ۔ ان چیلنجز اور پیجز سے یہ منظم طریقے سے اعلی کوالٹی کے ویڈیوز کی شارٹ کلپس بنا کر پوسٹ کرتا ہے ۔ فیس بک پر ہی اس نے کئی پیجز بنا رکھے ہیں ۔ ان پر تقریبا روزانہ اس کی ویڈیو اور تحریریں آتی ہیں۔ کئی نوجوان اس کی پوسٹوں کو شئیر بھی کرتے ہیں ۔ ایک عجیب چیز یہ بھی دیکھی کہ پوسٹ شیئر کرنے والوں میں اکثر مسلم لڑکیاں ہیں (وہ واقعی مسلم لڑکیوں کی آئی ڈیز ہیں یا ان کے پیچھے کوئی اور ہے، اس کا کوئی علم نہیں، البتہ ناچیز کے اندازے کے مطابق اکثر آئی ڈیز مشکوک ہیں) ، ان مسلم لڑکیوں کی فرینڈ لسٹ میں ہمارے کئی مدارس کے طلباء بھی ہیں۔
جب وہ لڑکیاں "احمد عیسی" کے ان پیجز کی پوسٹیں شئیر کرتیں ہیں تو ساتھ میں ان مدارس کے طلباء اور نوجوانون کو ٹیگ کر دیتی ہیں۔ افسوس تو اس پر ہے کہ وہ نوجوان طلباء ان پوسٹوں پر لائک بھی کر دیتے ہیں۔ مجھے سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب میں نے اس بات کو نوٹ کیا کہ میری فرینڈ لسٹ میں موجود کچھ دوست بھی جانے انجانے میں ایسا کر رہے ہیں بلکہ میں ان دوستوں کی پروفائلز کے ذریعے ہی اس سرگرمی تک پہنچا ۔ لیکن میری کم ہمتی ہی سمجھیے کہ مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آرہا ہے کہ ان دوستوں کو اس سے کیسے آگاہ کروں 😢
یہ معلوم نہیں مسلم لڑکیوں کے نام سے ان پروفائلز کے پیچھے کون ہے؟ کیا وہ واقعی متاثر شدہ مسلم لڑکیاں ہیں یا نوجوانوں کو اپنے جال میں پھسانے کے لئے جعلی آئی ڈیز بنائی گئی ہیں۔ 
میں پوسٹ کے آخر میں ان پیجز کی لنک بھی دے رہا ہوں۔ تاکہ آپ خود پوسٹوں کو دیکھیں کہ ان پر اکثر کن کے لائیک اور کمنٹ ہیں۔ 

بہر حال! مدارس کے طلباء و علماء اس فتنے کو سمجھیں ، سوشل میڈیا کی طاقت کو تسلیم کریں۔ اپنے اپنے آئی ٹی سیل ، سٹوڈیوز اور پروڈکشن ہاؤس بنا کر ان کو منظم کریں۔ ان سے ایسا مواد نشر کریں جس کو نئی نسل کی نئی ذہنیت قبول کرے ۔ لوگوں کی نفسیات کو سمجھیں اور انہیں ان کے ذہنی معیار کو سامنے رکھ کر دین پیش کریں۔
آج کل عوام علماء سے اس وجہ سے بھی دور ہو رہی ہے کہ وہ بے انتہاء شکوک و شبہات کے شکار ہیں ۔ مولنا زاہد الراشدی صاحب لکھتے ہیں : 
‏ایک طرف کفر اپنے فلسفہ و منطق کے ہتھیاروں اور اذہان و قلوب تک رسائی کیلئے ابلاغ کے تمام تر ذرائع سے لیس ہے، دوسری طرف ہم علماء کرام دین کے مسائل صرف فتویٰ اور حکم کی زبان میں سمجھانے کے درپے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ ناواقف حضرات کے ذہنوں میں بے شمار شبہات قطار باندھے خاموش کھڑے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیس پیجوں کی لنکس : 
1
https://www.facebook.com/naba7sc/

2
https://www.facebook.com/alsirat.almustaqim1/

3
https://www.facebook.com/Talashehaqkasafar7/

4
https://www.facebook.com/zalikalkitab007/

5
https://www.facebook.com/naba7tv007/

6
https://www.facebook.com/naba7daawat/

*ایک انتہائی سبق آموز کہانی...!* 💔

*راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تو تکرار ہو گئی.....* تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گیا ، بوڑھے آدمی کا غصہ...